سرحد: سینکڑوں نجی سکول کھولنے کا اعلان

طالبات(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشن’شدت پسندوں نے لڑکیوں کے درجنوں سکول تباہ کر دیے تھے‘
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد میں حکومت کی طرف سے سکول کھولنے کے اعلان کے بعد شورش زدہ ملاکنڈ ڈویژن کے ڈھائی ہزار سے زائد نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے بھی یکم اگست سے سکول کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعہ کو صوبائی وزراء وجد علی خان اور قاضی اسد نے مینگورہ کے دورے کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ ضلع سوات کے تعلیمی ادارے یکم اگست سے کھل جائیں گے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر قاضی اسد کا کہنا تھا کہ حکومت سوات میں تباہ ہونے والے تعلیمی اداروں کی تعمیرنو اور بحالی پر ساڑھے آٹھ ارب روپے خرچ کرے گی۔

نجی تعلیمی اداروں نے سکول کھولنے کا اعلان سنیچر کو مینگورہ میں یکم اگست سے سکولوں کے کھولنے کے حوالے سے ہونے والے ایک اعلی سطح کے اجلاس میں کیا ہے۔ اجلاس میں شامل نجی تعلیمی اداروں کے نمائندے ضیاء الدین یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یکم اگست سے وہ بھی اپنے اپنے ادارے کھولنے پر آمادہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن بالخصوص مینگورہ میں کچھ ایسے تعلیمی ادارے ہیں جہاں پر فوجی تعینات ہے لہذا انہیں جلد سے جلد خالی کروایا جائے۔

ان کے بقول اس کے علاوہ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ہر سرکاری اور نجی سکول میں مرد و خاتون ماہر نفسیات کو تعینات کیا جائے تاکہ وہ جنگ سے ذہنی طور پر متاثرہ بچوں کا علاج کرسکیں۔

ضیاء الدین یوسفزئی کا کہنا تھا کہ مینگورہ میں امن و امان کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے لہذا انہیں اس حوالے زیادہ خدشات نہیں ہے ۔

اس سے قبل ہونے والے اجلاس کی تفصیلات بتانے کے لیے صوبائی وزیر برائے ہائر ایجوکیشن قاضی اسد اور صوبائی وزیر جنگلات واجد علی خان نے مینگورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ سوات میں اٹھارہ سو شامیانے فراہم کیے جائیں گے تاکہ تباہ شدہ سکولوں کے طلباء درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء کو داخلے اور ان کی دیگر فیسیں معاف ہونگی۔انہوں نے کہا کہ سوات کے ان علاقوں میں سکول کھولیں جائیں گے جہاں حکومتی رٹ بحال ہے تاہم صحافیوں کے پوچھنے کے باوجود وہ یہ نہیں بتاسکے کہ اس وقت کن کن علاقوں میں حکومتی رٹ بحال کی جا چکی ہے۔

سوات کے سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے فوجی کارروائی سےچند دن پہلے تین مئی کو اس وقت بند ہوئے تھے جب مینگورہ میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔