’کچھ طالبان کو سیاست میں شامل کرنا ہوگا‘

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ افغانستان میں برسرپیکار جنگجوؤں کو توڑ کرکچھ کو سیاسی عمل میں شامل کرنا ہوگا۔
ڈیویڈ ملی بینڈ نے افغان اور نیٹو افواج پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں شہریوں کو طالبان سے تحفظ فراہم کرنا اپنی اویلین ترجیح بنانا ہو گی۔
جنوبی افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائی کرنے والی برطانوی فوج نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے ہلمند صوبے کے اہم حصوں سے طالبان کو نکال دیا ہے۔
اس اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد دو علیحدہ بم دھماکوں میں دو برطانوی فوجی ہلاک ہو گئے جس سے جولائی میں مرنے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد بائیس ہو گئی ہے۔

دریں اثناء شمال مغربی افغانستان کے صوبے بگیس میں طالبان نے ان ملک میں صدارتی انتخاب کے دوران جنگ بندی کی خبروں کی تردید کی ہے۔
دوسری طرف امریکی فوج نے اعلان کیا ہے آئندہ فوجی کارروائیوں میں مارے جانے والے طالبان جنگجوؤں کی تعداد کو عام نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے طالبان کی تعداد کو عام کرنے سے عوام کو شورش سے علیحدہ کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں اور اس سے لوگوں کے حلات زندگی بہتر کرنے کے بڑے مقصد سے بھی توجہ بٹ جاتی ہے۔
نیٹو فوج کی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت سے افغانستان میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ ماہ افغانستان میں امریکی فوج کے نئے سربراہ جنرل سٹینلے میکرسٹل نے کہا تھا کہ شہری ہلاکت کو کم کرنا امریکی فوج کی ترجیح ہو گی۔






















