’امتیازی سلوک بند کیا جائے‘

 وزیرستان کے متاثرین
،تصویر کا کیپشنامن تحریک کے رہنما نے الزام لگایا کہ حکومت نے زیادہ تر متاثرین وزیرستان کے کارباری مراکز کو اجتماعی ذمہ داری کے قانون کے تحت بند کیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پشاور میں سول سوسائٹی کی تنظیموں اور وزیرستان کے طلباء نے جنوبی اور شمالی وزیرستان سے فوجی کاروائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے متاثرین کو حکومت کی طرف سے بروقت امداد نہ ملنے اور ایف سی آر کے تحت ان کی گرفتاری کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا ہے۔

مظاہرہ پشاور پریس کلب کے سامنے منعقد ہوا جس میں سول سوسائٹی کی تنظیموں امن تحریک، پشاور یونیورسٹی میں اساتذہ کی تنظیم ( پیوٹا) اور پشاور کے مختلف تعلیمی اداراوں میں زیرتعلیم وزیرستان کے طلباء نے شرکت کی۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر ’ وزیرستان کے متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں، وزیرستان کا ہر شہری دہشت گرد نہیں، وزیرستان کے متاثرین کے ساتھ امتیازی سلوک بند کیا جائے اور وزیرستان کے طلباء کو تعلیمی وظائف دیے جائیں‘ کے نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے ’ہمیں تحفظ دو یا حکومت چھوڑ دو‘ کے نعرے بھی لگائے۔ اس موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امن تحریک کے رہنما ڈاکٹر سید عالم محسود نے کہا کہ افسوس کی بات تو یہ ہے جن متاثرین کو وزیرستان سے فوجی کارروائی کے نتیجے میں بے دخل کیا گیا ہے حکومت ان ہی لوگوں کو ایف سی آر کے قانون کے تحت گرفتار کرکے انہیں دہشت گرد قرار دے رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے زیادہ تر متاثرین وزیرستان کے کارباری مراکز کو اجتماعی ذمہ داری کے قانون کے تحت بند کیا ہے۔

اس سے پہلے پشاور پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی میں اساتذہ کی تنظیم (پیوٹا) کے جنرل سیکرٹری پروفیسر زبیر نے کہا کہ تنظیم نے وزیرستان متاثرین کی امداد کےلیے ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم نے دیگر مخیر تنظیموں کی مدد سے مالاکنڈ اور وزیرستان کے طلبہ کےلیے مالی معاونت کا پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کے تحت متاثرہ طلبہ کو وظائف دیے جارہے ہیں۔