پاک لنکا پہلا ون ڈے جمعرات کو

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، دمبولا
- وقت اشاعت
تینوں ٹیسٹ میچوں میں سامنے نظر آنے والی جیت کو اپنے ہاتھوں ضائع کرنے کے بعد اب پاکستانی کرکٹ ٹیم سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز میں مد مقابل ہو رہی ہے۔ سیریز کا پہلا میچ جمعرات کو دمبولا کے رانگیری انٹرنیشنل سٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے۔
ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں سری لنکا کے خلاف پاکستان کا ریکارڈ ہمیشہ اچھا رہا ہے جس نے اڑسٹھ میچز جیتے ہیں اور بیالیس میں اسے شکست ہوئی ہے تاہم یہ کلیہ حالیہ ٹیسٹ سیریز کی شکست کے بعد اب زیادہ معنی نہیں رکھتا کیونکہ یہی بات ٹیسٹ سیریز سے قبل بھی کہی جا رہی تھی لیکن موجودہ دورے میں پاکستانی ٹیم کو پہلی مرتبہ سری لنکا میں ٹیسٹ سیریز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان نے ون ڈے سیریز کے لیے اپنے سولہ رکنی اسکواڈ میں عمران نذیر، شاہد آفریدی، رانا نویدالحسن، ناصر جمشید، راؤ افتخار اور عمراکمل کو شامل کیا ہے ۔
آسٹریلیا اے کے خلاف تین سنچریاں بناکر سری لنکا آنے والے نوجوان عمراکمل نے سری لنکا اے کے خلاف سنچری بناکر ٹورنگ سلیکشن کمیٹی کو پیغام دے دیا ہے کہ انہیں نظرانداز کرنا آسان نہ ہوگا تاہم فوری طور پر کپتان یونس خان تجربہ کار بلے بازوں پر انحصار کرنے کی پالیسی اختیار کریں گے۔گوکہ ٹیسٹ سیریز میں اہم مواقعوں پر پاکستانی بیٹنگ نے جس طرح سب کو دھوکہ دیا وہ حیران کن تھا اسی وجہ سے پاکستانی ٹیم پہلے دو ٹیسٹ جیتنے کی پوزیشن میں آ کر بھی شکست سے دوچار ہوگئی۔

ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کے نقطہ نظر سے ایک اور مایوس کن پہلو فاسٹ بولر عمرگل کا کامیاب نہ ہونا تھا جو تین ٹیسٹ میچوں میں چوالیس کی اوسط سے صرف سات وکٹیں حاصل کرسکے۔
سری لنکن ٹیم کم و بیش انہی کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جس نے ٹیسٹ سیریز جیتی ہے۔ فٹ ہونے کے بعد مرلی کی واپسی کپتان سنگاکارا کو مزید تقویت فراہم کرے گی۔ مرلی کی غیرموجودگی میں رنگانا ہیرتھ نے کولاسکیرا اور تشارا کے ساتھ مل کر ٹیسٹ سیریز جیت کر سنگاکارا کو دے دی جن کی بحیثیت کپتان یہ پہلی ٹیسٹ سیریز بھی تھی۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سری لنکا گزشتہ پندرہ سال سے واس اور مرلی کے ذریعے ہی حریف ٹیموں کو زیر کرتی آئی تھی لیکن اس بار پہلی بار ایسا ہوا کہ نہ صرف ٹیسٹ بلکہ سیریز ان دونوں کے بغیر سری لنکا نے اپنے نام کی۔
سنگاکارا کے لیے اجانتھا مینڈس کا کامیاب ثابت نہ ہونا یقیناً باعث تشویش ہے جنہیں دو ٹیسٹ میچوں کی مایوس کن کارکردگی کے بعد تیسرے ٹیسٹ سے ڈراپ کردیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دمبولا میں سری لنکا نے اکیس میں سے چودہ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے یہ من پسند میدان نہیں رہا یہاں کھیلے گئے پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں سے دو ہی میں اسے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ دمبولا میں پاکستانی ٹیم صرف ایک مرتبہ دوسو سے زائد رنز بنانے میں کامیاب ہوسکی ہے اور اس گراؤنڈ کو اس وجہ سے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ یہاں فاسٹ باؤلر شعیب اختر بال ٹمپرنگ کی زد میں آئے تھے اور انہیں تین میچوں کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پاکستان کی موجودہ ٹیم میں محمد یوسف اور شاہد آفریدی ہی دو ایسے بیٹسمین ہیں جنہوں نے سری لنکا کے خلاف ون ڈے میں سنچریاں بنائی ہیں جبکہ موجودہ ٹیم میں سری لنکا کے خلاف سب سے زیادہ پینتالیس وکٹیں حاصل کرنے والے باؤلر عبدالرزاق ہیں۔ سری لنکا کی موجودہ ٹیم کے چاروں ٹاپ بیٹسمین جے سوریا، جے وردھنے، سنگاکارا اور دلشن پاکستان کے خلاف سنچریاں بناچکے ہیں جبکہ مرلی دھرن پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ اٹھاسی وکٹیں حاصل کرنے والے بولر ہیں۔






















