بھارت کو کوئی ’ڈوزیئر‘ نہیں دیا

قمر زماں کائرہ
،تصویر کا کیپشنقمر زمان کائرہ کراچی پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں خطاب کر رہے تھے
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزماں کائرہ نے کہا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ شرم الشیخ میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاکستان نے بلوچستان میں ہندوستان کی مداخلت کے الزام کا کوئی ثبوت نہیں دیا تھا۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی ہم منصب سے ملاقات کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان میں مبینہ مداخلت کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا جس پر بھارتی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ اس کا جائزہ لیں گے۔

’وزیر اعظم پاکستان نے ان سے اپنے ان خدشات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں (بھارتی وزیر اعظم) نے کہا تھا کہ ہم ضرور اسکا جائزہ لیں گے۔ اس پر ہم نے انہیں کوئی ڈوزیر (دستاویز) نہیں دی۔ اس طرح کی میٹنگ میں ڈوزیر نہیں دئے جاتے۔ میں ان (بھارتی وزیر اعظم) کی کوششوں اور اس نیت کو بھی سراہتا ہوں کہ انہوں نے دباؤ کے باوجود آگے بڑھ کر اس کا فیصلہ کیا۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات نے خطے میں پائیدار امن کے لئے پاکستان اور بھارت سمیت تمام ہمسایہ ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں پرامن پاکستان کے لئے پرامن ہندوستان اور پرامن افغانستان کی ضرورت ہے وہیں پرامن ہندوستان کے لئے پرامن پاکستان کی ضرورت ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن اور سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ آپریشن آٹھ ہفتوں کے اندر اندر عمومی طور پر مکمل کرلیا گیا ہے لیکن ابھی یہ لڑائی ختم نہیں ہوئی ہے۔

’یہ ایک لمبی لڑائی ہے۔ اس لڑائی کو ہم نے اس علاقے میں تو قابو کرلیا اور کرلیں گے اور کہیں اور بھی جہاں ضرورت ہوگی وہاں پر ہماری سیکیورٹی فورسز صورتحال کو سنبھالنے کے لئے تیار ہیں لیکن یہ ایک مائنڈ سیٹ (رجحان) ہے جو سماج کے اندر تک گیا ہوا ہے۔ اس مائنڈ سیٹ کے خلاف ہمیں سب کو اجتماعی طور پر لڑنا ہے۔ پاکستان کے تمام طبقوں کو لڑنا ہے اور اس میں آپ کی اور ہماری ذمہ داری شاید بڑی بنتی ہو۔‘

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے ایک فلاحی ریاست کے بجائے سیکیورٹی اسٹیٹ بنا رہا ہے جس کی ذمہ دار ان کے بقول عالمی طاقتیں اور ان کے حواری سابقہ فوجی آمر ہیں۔ ’خطے میں طالبنائزیشن، انتہاپسندی اور دہشتگردی کا عفریت پاکستان کا پیدا کردہ نہیں بلکہ یہ انہی کا پیدا کردہ ہے اور یہی وہ مقدمہ تھا جو صدر آصف علی زرداری نے امریکی صدر سمیت ان کے تمام فورمز پر لڑا اور ان سے کہا کہ ہمیں ایڈ نہیں ٹریڈ چاہیے۔‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان پر پچاس ارب ڈالر غیرملکی قرضہ ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ وہ بیرونی ملکوں کے ساتھ تجارت کو فروغ دیکر معیشت کو مضبوط کرے۔