چھ پولیس اہلکاروں سمیت سترہ اغوا

پولیس کی بھاری نفری نے علاقے میں پہنچ کر ملزمان کے خلاف آپریشن شروع کر دیا
،تصویر کا کیپشنپولیس کی بھاری نفری نے علاقے میں پہنچ کر ملزمان کے خلاف آپریشن شروع کر دیا
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں نامعلوم مسلح افراد نے چھ پولیس اہلکاروں سمیت سترہ افراد کو اغوا کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نصیرآباد کے علاقہ چھترمیں جمعرات کی صبح تین موٹرسائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نےریت لوڈ کرنے والے گیارہ مزدوروں کو اغوا کر لیا۔

ان افراد کی بازیابی کے لیے جب پولیس پارٹی چھترتھانہ کے ایس ایچ او احسان کھوسہ کی قیادت میں ملزمان کا پیچھا کرتی ہوئی متعلقہ علاقے میں پہنچی تو ملزمان نے ایس ایچ او چھتر سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو بھی مغوی بنا لیا۔

پولیس اہلکاروں کے اغوا کی اطلاع پر ڈی پی او نصیرآباد کپٹن عطاءنے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ علاقے میں پہنچ کر ملزمان کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے۔ آخری اطلاعات تک پولیس اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا لیکن تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

بلوچ ری پبلکن آرمی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ فرنٹیئر کور کی جانب سے کوئٹہ میں بلوچ نوجوانوں کے ساتھ توہین آمیز رویے کا ردعمل ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایف سی نے بلوچوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ ترک نہیں کیا تو بی آر اے کی جانب سے حکومتی املاک اور اہلکاروں کونقصان پہنچانے کی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔

دوسری جانب ڈیرہ بگٹی کے علاقہ لوٹی اور سوئی میں نامعلوم افراد نے گیس کی دو پائپ لائنوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہے جس کے باعث وہاں سے گیس کی سپلائی منقطع ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ دوہزار پانچ میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران بلوچ سردار نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد بلوچ مزاحمت کاروں کی جانب سے ڈیرہ اور سوئی میں گیس کی تنصیبات پر حملوں کے باعث وزارت گیس و پیٹرولیم کواب تک اربوں روپے کانقصان ہوا ہے۔