’طالبان قیادت غیر مؤثر ہوچکی ہے‘

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ سوات کے طالبان سربراہ مولانا فضل اللہ اور دیگر اعلٰی قیادت غیر مؤثر ہوچکی ہے اور اب بھی ان کا تعاقب کیا جارہا ہے۔
پشاور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے سپیشل سپورٹ گروپ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد نے دعویٰ کیا کہ طالبان رہنما مولانا فضل اللہ کی فوجی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر زخمی ہونے اور طالبان کی مواصلاتی نظام کی تباہی کی وجہ سے اب وہ غیر مؤثر ہوچکے ہیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ فوج اب بھی طالبان کی اعلٰی قیادت کا پیچھا کررہی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ فوجی کارروائی کے دوران قبائلی علاقے مہمند اور باجوڑ ایجنسی سے بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی کا فیصلہ اصولی طور پر ہوچکا ہے تاہم اس بارے میں طریقہ کار وضع کیا جارہا ہے۔
ملاکنڈ ڈویژن کے بے گھر افراد کے بارے میں لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد کا کہنا تھا کہ پچاس فیصد واپسی مکمل ہوچکی ہے اور اگلے دو دنوں میں سوات کی تحصیل مٹہ اور کبل کے لوگوں کی واپسی بھی شروع کردی جائے گا۔
ملاکنڈ ڈویژن میں بحالی اور تعمیر نو کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس پر ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت آئے گی جس کے لیے حکومت پاکستان چوبیس اگست کو ترکی کے شہر استنبول میں فرینڈز آف پاکستان کے ہونے والے اجلاس میں مدد کی اپیل کرے گی۔
لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان سے حال ہی میں پانچ ہزار خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے اور حکومت ان کو فی خاندان کو پانچ ہزار روپے ماہانہ دے گی۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے بےگھر ہونے والے افراد کی تعداد حکومتی اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔


















