سندھ ہائی کورٹ کے نئے سربراہ

سندھ ہائی کورٹ
،تصویر کا کیپشنجسٹس عثمانی سندھ ہائی کورٹ کے سب سے سینیئر جج تھے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس سرمد جلال عثمانی کو سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کردیا ہے جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کردیا ہے۔

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے سنیچر کو بتایا کہ یہ تعیناتیاں وزیر اعظم کی ایڈوائس اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سفارشات کی روشنی میں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر نے سمری پر دستخط کر کے وزارت قانون کو بھجوا دی ہے۔

سرمد جلال عثمانی اس سے پہلے سندھ ہائی کورٹ میں ہی تعینات تھے اور انہوں نے تین نومبر کو ملک میں لگنے والی ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایاتھا بعدازاں پیپلز پارٹی کی حکومت میںاُنہیں غیر آئینی قرار دیے جانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سفارشات کی روشنی میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی اُن ججوں میں شامل تھے جنہوں نے اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں دوبارہ حلف لیا تھا۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی سپریم کورٹ کے اُس چودہ رکنی بینچ میں شامل تھے جنہوں نے اکتیس جولائی کو عبوری آئینی حکمنامے اور سندھ ہائئ کورٹ کے دو ایڈہاک ججوں کی برطرفی کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سُناتے ہوئے ایمرجنسی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے اس چودہ رکنی بینچ کے فیصلے کے روشنی میں جسٹس سرمد جلال عثمانی کو واپس سندھ ہائی کورٹ بھیج دیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ جن ججوں کو غیر ائینی قرار دیے جانے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے دور میں ترقی دیکر سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ میں تعینات کیا گیا تھا اُن کو واپس متعلقہ ہائی کورٹ اور سیشن کورٹ میں بھیج دیں۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی کے بعد جسٹس سرمد جلال عثمانی سندھ ہائی کورٹ کے سب سے سینیر جج تھے۔