’سولہ لاکھ متاثرین کو متواتر مدد درکار‘

متاثرین کی واپسی
،تصویر کا کیپشنمتاثرین کی اپنے گھروں کو واپسی کا سلسلہ جاری ہے
    • مصنف, حسن مجتبٰی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیو یارک
  • وقت اشاعت

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے صوبہ سرحد میں نقل مکانی سے متاثرہ چھ لاکھ افراد کیمپوں اور دیگر علاقوں سے اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں جبکہ اب بھی نقل مکانی سے متاثرہ سولہ لاکھ افراد باقی ہیں جنہیں انسانی امداد کی متواتر ضرورت ہے۔

یہ بات جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں سیکرٹری جنرل بانکی مون کے نائب ترجمان فرحان الحق نے میڈیا اراکین کو بریفنگ کے دوران بتائي۔

ترجمان نے بتایا کہ اگرچہ نقل مکانی کے متاثرین افراد نے کیمپ چھوڑ دیے ہیں لیکن جلوزئي اور فیملو کیمپوں میں تین جولائي سے اب تک ڈیڑھ ہزار خاندان پہنچے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے بتایا کہ یونیسیف نے اندرونی نقل مکانی سے متاثر اپنے گھروں کو لوٹنے والے چھ ہزار افراد میں صحت و صفائی کا سامان تقسیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی صحت عامہ و طبی امداد کی ایجینسیوں نے پہلے ہی بونیر اور سوات میں ضروری ادویات تقسیم کی ہیں۔ نائب ترجمان نے باتیا کہ یہ ایجینسیاں بونیر میں صحت عامہ کے چودہ شفاخانے اور چار گشتی ہسپتال قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان کا کہنا تھا کہ چھبیس جولائي سے لیکر اب تک چار ہزار سات سو انتالیس سکولوں میں سے نقل مکانی سےگیارہ سو سڑسٹھ سکول متاثرین کی اپنے گھروں اور علاقوں کو تیزی سے واپسی کی وجہ سے خالی کر دیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر رابطہ کار برائے انسانی امداد کا کہنا ہے ہے جبکہ خاص طور نیا تعلمی سال شروع ہونے پر تمام بچوں کو ان کے سکولوں میں واپس بھیجنا پاکستانی حکومت اور عالمی انسانی امدادی اداروں کیلیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ بطور پناہ گزین کیمپ استعمال کی وجہ سے ان سکولوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت، نئے فرنیچر اور پڑھائي کے سامان کی فراہمی انتہائي ضروری ہے۔

سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان سے جب صوبہ بلوچستان میں اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی کہ بدقسمتی سے فی الحال اقوام متحدہ کو بلوچستان میں اپنی سرگرمیاں روکنی پڑی ہیں- انہوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کو نہایت ہی افسوس کیساتھ علاقے میں اپنے وہ ترقیاتی منصوبے روکنے پڑے ہیں جوانہوں نے حال ہی میں زراعت، تعلیم او خواتین کے مسئلوں کے متعلق شروع کیے تھے‘۔

سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان الحق سے جب تنظیم بلوچستان لبریشن یونائٹیڈ فرنٹ کی جناب سے مبینہ طور اقوام متحدہ کے عملے کو ملنے والی دھمکیوں کےمتعلق ایک صحافی نے سوال کیا تو انہوں نے کہا اقوام متحدہ اپنے عملے کو ملنے والی تمام دھمکیوں کو سنجیدہ لیتی ہے اور اس خاص معاملےکا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ متواتر صورتحال پر غور کر رہی ہے اور اس طرح کا بندوبست (ایڈجسٹسمنٹ) کر رہی ہے کہ وہ اپنے کام جاری رکھ سکے-

دوسری طرف پاکستان کی وفاقی وزیر اور بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہ فرزانہ راجہ نے جو آجکل امریکہ کے دورے پر ہیں، نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون سے ملاقات کی ہے اور ملاقات کے بعد پاکستانی صحافیوں کو بتایا ہے کہ انہوں نے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو صدر آصف علی زرداری کی طرف سے پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے جو انہوں نے قبول کرلی ہے۔