گوجرہ: مقدمہ درج، جلنے والوں کی آخری رسومات

احتجاج
،تصویر کا کیپشنلاشیں ریلوے کی پٹری پر رکھ ساڑھے چار گھنٹے تک احتجاج کیا۔
    • مصنف, عبادالحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،گوجرہ
  • وقت اشاعت

گوجرہ میں مسیحی برادری کے شدید احتجاج کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس ڈی پی او اور ڈی سی او کو بھی نامزد کیا گیا۔

ایف آئی درج ہونے کے بعد سنیچر حملے کے دوران جلنے والے افراد کی آخری رسومات ادا کر دی گئی ہیں۔ تاہم رینجرز کے دستے شہر میں گشت کر رہے ہیں۔

<link type="page"><caption> گوجرہ میں مسلم عیسائی جھگڑا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090801_christian_muslim_clash_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

وفاقی وزیر شہباز بھٹی اور رانا ثنا اللہ کے مطابق ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جس میں گوجرہ کے ڈی پی او اور ڈی سی او بھی نامزد افراد میں شامل ہیں۔ ایف آئی آر میں سات دفعات کا ذکر ہے جن میں قتل، بلوا کرنا، عبادت گاہوں اور ذاتی املاک کو نقصان پہنچانا جیسے الزامات شامل ہیں۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کریں گے۔

اتوار کو مسیحی برادری نے سنیچر کو جل کر ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کی تدفین سے انکار کر دیا اور تابوت میں رکھی لاشیں ریلوے کی پٹری پر رکھ ساڑھی چار گھنٹے تک احتجاج کیا۔

احتاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ جب تک حملے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوتا اس وقت تک لاشیں پٹری سے نہیں اٹھائی جائیں گی۔

احتجاج کے دوران لاشیں پٹری پر رکھے جانے سے ریلوے ٹریفک ساڑھے چار گھنٹے تک معطل رہی۔ اسی دوران حکام اور مسیحی برادری کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جن میں ایف آئی آر کے اندراج کا فیصلہ کیا گیا۔

احیجاج
،تصویر کا کیپشناحتجاج کے دوران لوگ تابوت اٹھا کر پٹری پر لے جا رہے ہیں

مقدمہ درج ہونے کے بعد ہی مرنے والوں کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ یہ تفصیلات بتاتے ہوئے صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے سنیچر کے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا۔

دریں اثنا صوبائی وزیر کامران مائیکل نے احتجاج کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے دفعہ دو سو پچانوے بی اور دفعہ دوسوپچانوے سی پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ان دفعات میں ترمیم ہونی چاہیے۔ ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات میں وفاقی وزیر شہباز بھٹی نے بھی شرکت کی۔