’کسی قسم کا خوف نہیں ہے‘

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
ایک ایسے وقت میں جب شورش زدہ سوات کے ہزاروں لوگ اب بھی اپنے ہی گھروں کو واپس لوٹنے سے خوفزدہ ہیں فوجی کارروائی کے دوران پہلی بار پنجاب اور سندھ کے بعض خاندان جنگ زدہ سوات سے لطف اندوز ہونے کے لیے کالام پہنچ چکے ہیں۔
کراچی، لاہور اور فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے چار خاندان بظاہر غیر محفوظ سوات کو محفوظ سمجھ کر اس وقت سیاحتی مقام کالام کی سیر کرنے میں مصروف ہیں۔ ان میں لاہور سے اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ آئے ہوئے ارشد حسین بھی شامل ہیں۔
ارشد حسین نے کالام سے ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ انہیں کالام بہت پسند ہے اور وہ بے تابی سے اس انتظار میں تھے کہ جونہی حالات تھوڑے سے بھی ٹھیک ہوں گے وہ سوات ضرور جائیں گے۔ ان کے مطابق ’ہمارا پروگرام مئی یا جون میں آنے کا تھا لیکن حالات کی وجہ سے اب آنا ممکن ہوسکا‘۔
ان کے مطابق یہاں آکر اندازہ ہوا کہ حالات اس قدر خراب نہیں ہیں جس طرح میڈیا پر بتایا یا دکھایا جارہا ہے۔ ارشد حسین کا کہنا تھا کہ وہ کل رات یہاں پہنچے ہیں اور آج انہوں خوبصورت مقامات کی سیر کی اور اس دوران انہیں کسی قسم کا کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔
البتہ انہوں نے کہا کہ پچھلے بار اور اس دفعہ آنے میں انہیں صرف اتنا فرق محسوس ہوا ہے کہ راستے میں جگہ جگہ پر چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں جہاں آنے جانے والوں کی سخت تلاشی لی جاتی ہے۔ ان کے بقول ’راستے میں سب زیادہ تکلیف واپس جانے والے خاندانوں کے بچوں کو ہے جو سخت گرمی میں تلاشی کی وجہ سے گھنٹوں انتظار کرتے ہیں۔’
ارشد حسین کی بیوی لبنٰی ارشد کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پہلے سے ہی ٹھان لیا تھا کہ ہم کالام ضرور جائیں گے کیونکہ یہ جگہ ہمیں بہت ہی پسند ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ راستے میں بہت سخت چیکنگ تھی اور ہمیں میڈیا کے ذریعے جو معلومات ملی ہوئی تھیں ان کی بنیاد پر ہمیں یہ خوف تھا کہ کہیں راستے میں طالبان نہ ہوں لیکن ایسا تو کچھ تھا ہی نہیں اور بڑے آرام سے یہاں پہنچ گئے۔
کالام میں ہوٹل ایسوسی ایشن کے ایک نمائندے رحم الدین صدیقی کا کہنا ہے کہ سیاحت کے لیے چند خاندانوں کی آمد سے سیاحت سے وابستہ کاروباری افراد میں اب ایک امید سی پیدا ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال سے کالام کے تین سو کے قریب ہوٹل بند پڑے ہیں لیکن اب تقریباً نوہوٹل کھل گئے ہیں۔
ان کے مطابق باقی ہوٹلوں میں صفائی ستھرائی کا کام شروع کردیا گیا اور توقع ہے کہ باقی بھی جلد کھلنا شروع ہوجائیں گے۔سوات میں گزشتہ کئی سالوں سے جاری تشدد کی وجہ ہوٹل ایسوسی ایشن کے مطابق صرف سیاحت کے شعبے کوتقریباً دس ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















