مشنری سکول احتجاجاً بند

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پنجاب کے شہر گوجرہ میں عیسائی برادری پر حملوں کے خلاف عیسائی تنظیموں نے سوگ میں تین روز تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ کراچی میں پیر کو تمام مشنری سکول اور کالج اجتجاجاً بند رہے۔
کراچی میں کیھتولک بورڈ آف ایجوکیشن کے تحت باسٹھ سکول رجسٹرڈ ہیں جن میں اسی ہزار کے قریب طالب علم زیر تعلیم ہیں۔
کیھتولک بورڈ آف ایجوکیشنکے اہلکار بینجن ویلیم کے مطابق گوجرہ واقعے کی مذمت کے لیے تین روز تک سکول آج بند رکھے گئے ہیں۔
گوجرہ میں مسلم عیسائی فسادات کے دوران سات عیسائی ہلاک ہوگئے تھے۔
بینجمن ویلیم کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اس احتجاج سے کچھ نہ کچھ فرق ضرور پڑے گا کیونکہ ان کے پاس احتجاج ریکارڈ کرانے کا واحد یہ ہی ایک راستہ ہے۔
’سینٹ پیٹرکس، سینٹ پال اور سینٹ جوزف سکول میں امیر گھرانوں اور بیورکرسیی کے بچے پڑھتے ہیں ان کے ذریعے ہم اپنا احتجاج ان تک پہنچاتے ہیں۔‘
کراچی میں بڑے سکولوں اور کلیساؤں کے باہر حفاظتی انتظامات کے تحت پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کردیئے گئے ہیں۔ بینجمن ولیم کا کہنا ہے کہ جب کبھی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے، حکومت یہ اقدامات اٹھاتی ہے اور کچھ دنوں کے بعد انہیں ہٹا دیا جاتا ہے اور سکیورٹی انتظامات ان اداروں کے چوکیداروں کے حوالے ہوتی ہے۔
دوسری جانب مسیحی برادری نے پاکستان کے یوم آزادی سادگی سے منانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس روز گھروں تک محدود رہیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان مینارٹی فار ہیومن رائٹس کی جانب سے سابق رکن صوبائی اسمبلی مائیکل جاوید اور دیگر رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چند مفاد پرست جنونی افراد مسیحیوں کی جائیداد ہڑپ کرنے کے لیے توہین پیغمبر اسلام اور قرآن کے بارے میں قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں اور آج تک ان الزامات کے تحت کوئی ایک بھی مقدمہ ثابت نہیں ہوسکا ہے۔
ان کے مطابق انہیں قوانین کی وجہ سے مذہبی اقلیتیں خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں اور اس سے بیرون ملک بھی پاکستان کا وقار مجروح ہو رہا ہے، لہٰذا ان قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔






















