گھر گر گیا مگر یادیں باقی

مسز یونس
،تصویر کا کیپشنمسز یونس کے گھرکو ہتھوڑے چلا کر گرایا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پینتیس سالہ مسز یونس کے سامنے ان کے گھر کی عمارت پر ہتھوڑے چلائے جا رہے تھے، اور وہ عمارت کے سامنے کرسی پر نم آنکھیں لیے ساکت بیٹھی ہوئی تھیں، جیسے وہ اس گھر میں گذرے ہوئے لمحوں کے ساتھ موجود منظر کو بھی محفوظ کر رہی ہوں۔

کراچی کے قدیم علاقے لی مارکیٹ کی کامل گلی میں جمعے کی رات پانچ منزلہ عمارت گرنے سے کم ازکم چوبیس افراد ہلاک ہو گئے تھے، عمارت زمین بوس ہونے کے بعد اس کے آس پاس کی بھی چار عمارتوں میں دراڑیں پڑی گئیں جن میں سے کوئی تیس کے قریب خاندان آباد تھے جن سے یہ عمارتیں خالی کرائی گئی ہیں۔

مسز یونس کا گھر ذوالفقار ہاؤس کی تیسری منزل پر تھا، جہاں ان کے خاندان سمیت پانچ خاندان رہتے تھے، وہ بتاتی ہیں کہ عمارت میں کافی عرصے سے دراڑیں پڑی ہوئی تھیں، انہوں نے عمارت کے مالک سے شکایت بھی کی تھی مگر اس نے کوئی توجہ نہیں دی، جب برابر کی عمارت گری تو وہ سب کچھ اندر چھوڑ کر خالی ہاتھوں باہر نکل آئے ۔

Image

پانچ منزلہ تقی منزل کو بھی توڑا جا رہا ہے، اس عمارت کے رہائشی محمد جاوید کا کہنا ہے کہ ان کی خواتین بغیر دوپٹوں کے گھروں سے نکل آئیں کیونکہ عمارت زمین بوس ہوتے ہی ان کی عمارت لرز گئی تھی، جاوید کے بقول انہیں ایک نئی زندگی ملی ہے۔

عبدالحارث بھی ذوالفقار ہاؤس میں رہتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ وہ بے گھر ہوگئے ہیں ان کے پاس نہ تو رہنے اور نہ ہی کھانے کو بچا ہے، اہل محلہ نے انہیں کھانے پینا فراہم کیا وہ چالیس گھنٹےسڑک پر رہے مگر انتظامیہ کی جانب سے کوئی مدد نہیں کی گئی۔

عبدالحارث نقلی زیورات بنانے کا کام کرتے ہیں، ایک کلو زیوارت بنانے پر انہیں تین سو روپے مزدوری ملتی ہے ان کے پانچ بچے ہیں۔ وہ جذبات میں آکر کانپنے لگتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ تین جوان بیٹیاں ہیں انہیں لیےکر کس کے گھر پر جائیں کس سے سر چھاپنے کی جگہ مانگیں۔

زمین بوسے ہونے والی عمارت خدیجہ منزل کی طرف آنے والی گلیوں پر محلے کے لوگوں نے نوجوان کھڑے کردیے ہیں جو لوگوں کو اس طرف آنے سے روکتے ہیں تاکہ کسی نقصان سے بچا جا سکے، کئی ایسے بھی لوگ نظر آئے جو متاثرہ عمارت کو دیکھنے کے لیے بضد تھے۔ کئی لوگ تو بچوں کو بھی ساتھ لائے تھے کہ وہ یہ منظر دیکھنا چاہتے ہیں۔

متاثرہ عمارت کے پاس ریسکیو آپریشن تو دو روز پہلے بند ہوگیا تھا اب صرف وہاں ایک پولیس اہلکار تعینات ہے مگر علاقے کے لوگوں کو خدشہ ہے کہ ملبے میں ابھی بھی لاشیں ہوسکتی ہیں کیونکہ عمارت کے گودام میں رہنے والے چار پٹھان چوکیدار ابھی تک لاپتہ ہیں۔

گلی کے باہر لڑکے لوگوں کو گلی میں جانے سے روک رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنگلی کے باہر لڑکے لوگوں کو گلی میں جانے سے روک رہے ہیں

شہر کا یہ قدیم گنجان آبادی والے علاقہ ہے جہاں گلیاں بھی تنگ ہیں، اور بڑی تعداد میں پرانی عمارتیں ہیں جن میں کچھی اور میمن کمیونٹی کے لوگوں کی آباد ہے۔

علاقے کے لوگ سٹی حکومت کی جانب سے منگوائی گئی ہیوی مشنری کو بھی عمارتوں میں دراڑیں پڑنے کا سسب قرار دیتے ہیں۔ عبدالحارث کا کہنا ہے کہ اتنی بھاری مشنری لیکر آئے جس سے عمارتیں ہل کر رہے گئیں، ان کے مطابق یا تو بہت چھوٹی مشنری لائی گئی یا بہت بڑی، جیسے یہاں کوئی پہاڑ توڑنا ہے پورا کام ہی غیر فنی انداز سے کام کیاگیا۔

حکومت کی جانب سے متاثرین کے لیے کوئی کارروائی نظر نہیں آرہی تھی، پیر کو وفافی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار اور صوبائی وزیر بلدیات آغا سراج نے تین روز کے بعد جائے وقوع کا دورہ کیا تھا اور لوگوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی مدد کی جائے گی۔

اکثر بے گھر متاثرین کو شہر کے نامور تاجر عقیل کریم ڈیڈی کی جانب سے عارضی رہائش فراہم کی گئی ہے، متاثرین کے مطابق انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسی جگہ نئی عمارت بناکر دیں گے۔

کھارادر پولیس نے فریادی عبداللہ ولد عبدالسلام کی مدعیت میں تین ٹھیکیداروں اقبال عطا، امان اللہ اور قربان کے خلاف لاپرواہی اور بال سبب کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے مگر کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

صدر میونسپل ٹاؤن افسر مختار حسین کا کہنا ہے کہ جس ٹھیکیدار پر مقدمہ دائر کیا گیا ہے اس کی ایک عمارت پہلے سے زیر تعمیر تھی اس میں متاثرین کو رہائش فراہم کی گئی ہے، جبکہ جو عمارتیں خالی کرائی گئیں ہیں ان کے رہائشی خود ان کے مالک تھے ان میں کچھ رشتے داروں کے پاس چلے گئے اور کچھ کی مخیر حضرات نے مدد کی ہے۔

معاملے کے مستقل حل کے لیئے ان کا کہنا تھا کہ شہری حکومت نے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی ہے جو اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔

تقی منزل کے متاثر محمد سلیم کا کہنا ہے کہ ان کی نظریں تو حکومت پر لگی ہوئی ہیں، انہیں تو ایسے لگتا ہے کہ زندگی کا سفر صفر سے شروع کرنا پڑے گا مگر ہاتھ خالی، اس پریشانی میں کہ اب چھت نہیں ہے وہ کام پر بھی نہیں جاسکتے، ان کےساتھ موجود عبدالحارث کا کہنا تھا کہ اور کوئی مدد نہیں ہوسکے تو یہ زکوۃ کا مہینے ہے اس رقم میں سے ہی ان کے گھر تعمیر کرائے جائیں ۔