چار سکیورٹی اہلکاروں سمیت آٹھ ہلاک

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنحکومت نے شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف باقاعدہ آپریشن کا اعلان نہیں ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

حکام کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو الگ الگ واقعات میں مارٹرگولے گرنے سے چار سکیورٹی اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سوموار اور منگل کی درمیانی رات شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کے قریب نامعلوم شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی دو چیک پوسٹوں کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔انہوں نے بتایا کہ چیک پوسٹوں پر ہونے والے حملوں میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی اور مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر بھرپورگولہ باری کی۔اس دوران مارٹر کے دوگولے چشمہ گاؤں کے مکانات پر لگنے سے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

دوسرا واقعہ دتہ خیل گاؤں میں پیش آیا جہاں ایک مارٹر گولہ میرشاہ جہان نامی ایک شخص کے مکان کے اندر گرا جس سے وہاں موجود دو خواتین ہلاک جبکہ دو بچوں سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد عام شہری ہیں۔

بعض ذرائع نے دتہ خیل گاؤں واقعہ میں ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتائی ہے تاہم مقامی طورپر صرف دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوسکی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق نامعلوم شدت پسندوں نے رات کے وقت فوجی قلعہ پر مارٹرگولے داغے تھے جس کے ردعمل میں سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی اور توپ خانے سے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی گئی۔

شمالی وزیرستان میں حکومت کی جانب سے طالبان کے خلاف باقاعدہ آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم جب بھی حکومتی اہلکاروں پر حملے ہوتے ہیں تو سکیورٹی فورسز ان کا بھرپور جواب دیتی ہے۔