بس دریا میں گرنے سے ستائیس فوجی ہلاک

- مصنف, ذوالفقار علی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
- وقت اشاعت
پاکستان کے زیر انتظام شمالی علاقہ جات میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسکردو میں ایک مسافر بس کے دریائے سندھ میں گرنے سے بس میں سوارستائیس فوجیوں سمیت چونتیس افراد دریابرد ہوگئے ہیں۔
اسکردو پولیس کے مطابق مسافر بس راولپنڈی سے اسکردو جا رہی تھی کہ مالوپہ کے مقام پر لڑھک کر سینکڑوں فٹ نیچے دریائے سندھ میں جا گری۔مالوپہ کا گاؤں اسکردو سے قریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
بس میں حکام کے مطابق کل پینتیس افراد سوار تھے تاہم بس کا کنڈیکڑ اس حادثے میں بچ گیا ہے کیوں کہ وہ بس گرنے سے قبل ہی اس سے اتر گیا تھا۔ مقامی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا اور وہ چھٹیوں کے بعد ڈیوٹی پر واپس جا رہے تھے۔
پولیس کے مطابق دریا میں بہہ جانے والے افراد کی تلاش جارہی ہے اور پولیس، فوج اور مقامی لوگ امدادی کاروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں تاہم پانی کا بہاؤ بہت تیز ہونے کے باعث امدادی کاروائیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ سکردو کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد علی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ’ امدادی ٹیمیں لاشوں کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم تیز بہاؤ کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے‘۔
حکام کے مطابق تاحال حادثے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں تاہم بس کمپنی کے اہلکار محمد حسن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جس مقام پر حادثہ پیش آیا وہاں چڑھائی بہت زیادہ ہے اور بس پہاڑ پر چڑھتے ہوئے توازن کھو کر دریائے سندھ میں جا گری۔ محمد حسن کا کہنا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والی بس منگل کی دوپہر راولپنڈی سے روانہ ہوئی تھی اور وہ بدھ کی شب بارہ بجے کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ شاہراہِ قراقرم پر تعمیراتی کام کی وجہ سے بس دس گھنٹے تاخیر کا شکار بھی ہوئی۔ خیال رہے کہ سکردو سے راولپنڈی تک بس کا سفر بائیس گھنٹے پر محیط ہے۔


















