پہلے ہی تماشہ تھے مزید تماشہ بن گئے

خواجہ سرا
،تصویر کا کیپشنخواجہ سراؤں کے پاس بھی اپنی آبادی کا کوئی قطعی اعداد وشمار نہیں
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان میں ہیجڑوں کے رجسڑیشن فارم میں ولدیت کے خانے نے ان کے لیے مسئلہ کھڑا کردیاہے۔ لاہور میں خواجہ سراؤں کے ایک گرو محسن آرزو نے کہا ہےکہ رجسٹریشن سے صدیوں پرانا وراثتی نظام متاثر ہوگا۔ اس نظام کے تحت ہیجڑے کی جائیداد کا وارث دوسرا ہیجڑا یعنی خواجہ سرا ہوتا ہے۔

پاکستان میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر ہیجڑوں کی رجسٹریشن شروع کی گئی ہے جس پر ہیجڑوں کی ایک بڑی تعداد نے خوشی کا اظہار کیا ہے تو بعض کو تحفظات بھی ہیں۔

محسن آرزو لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت اورچونگی امرسدھو کے ہیجڑوں کے گرو ہیں اور ان کا اپنا ایک ڈیرہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب والدین اپنے ہیجڑے بچے کو اپناتے ہی نہیں ہیں اوروہ بچہ ان کے لیے شرم کا باعث بن جاتا ہے تو پھر ہیجڑوں کے رجسٹریشن فارم میں ولدیت کے خانے کا جواز ہی نہیں رہتا۔

محسن آرزو ہیجڑوں کے اس گروہ سے تعلق رکھتا ہے جن کے بارے میں پیدائشی طور پر یہ واضح نہیں ہوتا کہ مرد ہیں یا عورت ہیں۔ہیجڑے کو کھسرا یا خواجہ سرا بھی کہا جاتا ہے جبکہ زنانہ یا زنخا ایک دوسری صنف ہے۔

محسن آرزو نے کہا کہ زنانہ یا زنخا جسمانی طور پر مرد ہوتا ہے لیکن اس کی روح اپنے آپ کو عورت سمجھ کر خوش ہوتی ہے۔انہوں نے کہا ایسے افراد کے فارم میں ولدیت کا خانہ درست مانا جاسکتا ہے لیکن ہیجڑوں کے معاملے میں نہیں۔

انہوں نے کہا ہیجڑے خود سے اپنی نسل نہیں بڑھا سکتے بلکہ عام مرد و عورت کے گھر جو بچہ نامکمل جنسی شناخت کےساتھ پیدا ہوجائے وہی ان کے خاندان کا حصہ بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے بچے اپنے ہی گھروالوں محلے داروںکے طنز طعنوں کا نشانہ اور ایک تماشہبنتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ ایسا بچہ جب اپنے جیسےکسی ہیجڑےیا کھسرے کو ناچتا گاتا اور خوش دیکھتا ہیں تو اپنے والدین بہن بھائیوں کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ آملتا ہے۔

گرو اس کو اپنی اولاد بنا لیتا ہے اور اس کے لیے اپنی محبت نچھاور کرتا ہے اور ہیجڑا بھی خوش ہوتا ہے اور اس کے گھروالے بھی اس ’نجات” ملنے پر خوش ہوتے ہیں۔

محسن آرزو کے ڈیرے پرموجود ایکبزرگ ہیجڑے حاجی مینگو نے کہا کہ والدین بہن بھائی تو ہمارے دشمن ہوتے ہیں۔وہ ہمیں ناپسند کرتے ہیں ہمیں اپنے گھروں میں آنے سے منع کرتے ہیں اور اگر کوئی ہیجڑا مر جائے تو اس کے جنازے پر نہیں آتے۔بہتر برس کے حاجی مینگو نے کہا کہ حکومت ایسے لوگوں کا نام کیوں ہمارے نام کے ساتھ جوڑنا چاہتی ہے جو ہمارے دشمن ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان میں ہیجڑوں کے گرو ہوتے ہیں جنہیں ان کے چیلے اپنی کمائی میں سے حصہ دیتے ہیں اور اس سے گرو کا ڈیرہ چلتا ہے اور وہ چیلوں کی فلاح و بہبود اور ان کے چھوٹے موٹے مسائل حل کرتا ہے۔

محسن آرزو کے پاس ایک ایسا شجرہ نسب ہے جس میں ان کے بقول مغلیہ دور تک کے گرو کے نام ہیں۔

محسن آرزو نے بتایا کہ کوئی بھی گرو کبھی بھی کرائے کے مکان میں نہیں رہتا بلکہ اس کا اپنا ذاتی مکان ہوتا ہے جو اسے اپنے سے پہلے والے گرو سے وراثت میں ملتا ہے۔انہوں کہا کہ املاک یا جائیداد گرو اور اس کے چیلوں کی کمائی ہوتی ہے اور گرو کے مرنے کےبعد انہی کی برداری میں سے نیا گرو اس کا انتظام سنبھالتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ولدیت کے خانے میں حقیقی باپ کا نام ہوگا تو پھرہیجڑے کا بہن بھائی اس جائیداد کے وارث بننے کے دعویدار ہوسکتے ہیں جس پران کے بقولاخلاقی طور پر ان کا کوئی حق نہیں ہے۔

محسن آرزو کے قومی شناختی کارڈ پر ان کے گرو کا نہیں بلکہ ان کے حقیقی والد کا نام ہے۔انہوں نے کہا ’میں رجسٹریشن آفس یعنی نادرا والوں کے دباؤ میں آکراپنے والد کا نام لکھوا دیا تھا اور جب مجھے غلطی کا احساس ہوا اور میں نے اپنے گرو کا نام لکھوانے کی کوشش کی تو رجسٹریشن آفس کے عملے نے تبدیلی سے انکار کردیا۔

حاجی سیاں اچھرہ کے علاقے کے گرو ہیں ان کا کہنا ہے کہ پہلے شناختی کارڈ بنوانے پر انہیں مسائل کا سامنا رہتا تھا اب رجسٹریشن ایک نئی مصیبت بن کر کھڑی ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہیجڑوں کی رجسٹریشن کا اعلان کیا تو پہلے تو وہ بہت خوش ہوئے کہ اب انہیں معاشرے کے دیگر لوگوں کی طرح انسان سمجھا جائے گا اور ان کے مسائل کو بھی وہی اہمیت ملے گی جو باقی لوگوں کے مسائل کو ملتی ہے۔

انہوں نے کہا دوتین مہینے ہوگئے ہیں لیکن ان کے ڈیرے پر کوئی رجسٹریشن کرانے کے لیے نہیں پہنچا الٹامیڈیا میں خبریں آنے لگی ہیں اور اب یہ پریشانی کھڑی ہوگئی ہے کہ ولدیت میں اس شخص کا نام کیسے لکھوادیں جو ہمیں اپنی اولاد کہنے پر شرمندہ ہوتا ہے۔

محسن آرزو نے کہا کہ رجسٹریشن تو ہوئی نہیں لیکن ہم جو پہلے ہی تماشہ تھے اب اور تماشہ بن گئے ہیں