گوجرہ حملہ: نقاب پوش کہاں سے آئے؟

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،گوجرہ
- وقت اشاعت
پنجاب کے وسطی شہر گوجرہ میں مسیحی آبادی مشتمل بستی پر حملے اور سات افراد کی ہلاکت کے واقعہ نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
ان سوالات میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہاگر بستی پر حملہ کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ نہیں کیا گیا تو مسیحی بستی کے سامنے احتجاج کرنے والے مظاہرین کے پاسایسامواد کیوں موجود تھا جس کیمدد سے بستی گھروں کو نذر آتش کیا گیا۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق گوجرہ کے ایک گاؤں میں قرآن کی بے حرمتی کے میبنہ واقعہ کےخلاف یکم اگست کو شہر میں احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کی گئی ہے اور ایک جلوس نکالا گیا۔ انتظامیہ کے بقول جب مظاہرین مسیحی آبادی کی بستی کرسچن کالونی کے سامنے پہنچے تو مظاہرین اور بستی کے رہائیشوں کے درمیان پرتشدد چھڑپ ہوگئی۔
کرسچن کالونی کے متاثرین کا کہنا ہے مظاہرین نے جب ان کی بستی پر دھاوا بولا تو مظاہرین میں ایسے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے اپنے چہرے نقاب میں چھپا رکھے تھے اور ان نقاب پوشوں مظاہرین نے نہ صرف فائرنگ کی بلکہ گھروں کو آگ بھی لگادی۔ متاثرین کے بقول گھروں کو نذر آتش کرنے کے لیے پیڑول یا تیل نہیں بلکہ خاص قسم کا کمیکل استعمال کیا گیا۔
متاثرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بستی پر حملے کے لیے نقاب پوش حملہ آور کو جھنگ سے بلایا گیا تھا۔
اگرچہ گوجرہ کو پاکستان میں ہاکی کی نرسری کہا جاتا ہے لیکن یہ شہر ضلع جھنگ سے لگ بھگ دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جو ایک کالعدم تنظم کی سرگرمیوں کا گڑھ رہا ہے۔
متاثرہ کرسچن کالونی کے ایک رہائشی خالد کا کہنا ہے کہ بستی پر حملہ کوئی مذہبی لڑائی نہیں بلکہ دہشتگردی کی کارروائی ہے۔
ان کے بقول حملہ آوروں نقاب پہن رکھے تھے اور ان کے پاس جدید قسم کا اسلحہ تھا جسے نقاب پوش حملہ آور انتہائی مہارت سے استعمال کر رہے تھے۔خالد کا کہنا ہے کہ بستی پر حملے کےلیے لوگوں کو جھنگ سے بلایا گیا ہے اور یہ لوگ جھنگ سے اسحلہ اور کمیکل کے ساتھگوجرہ آئے لیکن ان کی آمد کی اطلاع نہ تو پولیس اور ایجنسی والوں کوہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خالد کہتے ہیں کہ حملہ آوروں کی مزاحمت کرکے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی لیکن ہم سب حملوں آوروں کی فائرنگ کے سامنے بے بس ہوگئے لیکن ان پر مشکل کی اس گھڑی میں قریب کے علاقے میں رہنے والے مسلمانوں نے ان سے تعاون کیا۔
اسی بستی کے ایک ریٹائرڈسرکاری ملازم ریاض بھی ہیں جن کا گھر سب سے پہلے حملہ آور کا نشانہ بننا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیساس تمام معاملے میں بروقتمداخلت کرتی تو یہ تباہی نہ ہوتی۔انہوں نے بتایا کہ نقاب پوشوں نے پہلے فائرنگ کی پھر ان کے گھر کو آگ لگا دی جس کے بعد انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے اوراپنے خاندان کے دیگر ارکان کی جان بچائی۔

اخلاق حمید کرسچن کالونی کے اس بدقسمت خاندان کا رکن ہے جس کے سات ارکان اس حملے کے دوران ہلاکت ہوئے۔ مرنے والوں میں اخلاق کے والد کے علاوہ دو بھابیاں،ایک بھتیجا ، بھتیجی اور قریبی خاتون رشتہ دار بھی شامل تھی۔
اخلاق بتاتے ہیں مظاہرین کے حملے کے دوران ان کے والد حمید کو سر میں گولی لگی جس کے بعد پانچنقاب پوش ان کے گھر میں گھس گئے اور گھر کی دیواروں پر کمیکل پھینک کر اس پر فائرنگ کی جس سے آگ لگ گئی۔
بستی کے پادری سرفراز کا کہنا ہے کہ گوجرہ کے گاؤں کی مسجد میں ہونے والے اعلانات کے بعد پولیس اور انتظامیہ سے تحفظ کے لیے مدد مانگی تھی لیکن پولیس کی طرف سے کوئی ایسے اقدامات نہیں کیا گیا جن سے تحفظ ملتا۔
ادھر پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے اس واقعہکے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں یہ کہا ہے کہ کرسچن کالونی پر جو حملہ ہوا ہے وہ اچانک نہیں بلکہ پیشگی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے اور انتظامیہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاںنےحملے کے دوران مرنے والوں کی آخری رسومات کے موقع پر اپنے خطاب میں کرسچن کالونی پر حملہ کو دہشتگردی قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے اب ملک میں دو مختلف مذاہب کے لوگوں کو لڑنے کے لیے سازش کی ہے۔
جبکہ اسی موقع پر پنجاب کے اقلیتی امور کے وزیر کامران مائیکل نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان قوانین میں ترمیم کرانے کے لیے تحریک کی ضرورت ہے جس کا نشانہ مسیحی برادری بنتی ہے۔
حکومت پنجاب نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس اقبال حمید رحمان پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا ہے۔ جسٹس اقبال حمید رحمانسابق چیف جسٹس پاکستان حمود الرحمان کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے سقوط ڈھاکہ کی عدالتی تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ مرتب کی تھی۔
یہاں پر اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا کہ قرآن کی میبنہ بے حرمتی پر احتجاج کرنے والوں مظاہرین کا اپنے ساتھ جدید اسلحہ اور خطرناک کیمیکل لے کر احتجاج میں آنے کیا مقصد تھا ؟
اقلیتوں کےحقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہناہے کہ عدالتی کمیشن جہاں اپنی تحقیقات میں اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آیا کرسچن کالونی پر حملہدہشتگردی کی کارروائی کا کوئی نیاطریقہ ہے یا پھر یہ حملہ اقلیتی کے حقوق کے استحصال کی روایتی کہانی ہے۔وہاں حکومت کو بھی اقلیتی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے






















