بیوہ کی اجڑی مانگ لاہور کی فوڈ سٹریٹ

Image
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

امریکہ سےآئے میرے لنگوٹیے یار نے میرے ساتھ لاہور کی معروف گوالمنڈی فوڈ سٹریٹ جانے سے انکار کردیا۔

اس انکار کی وجہ چپل کباب کےاڈے کےمنیجر اشرف گل ہیں جو مجھے دیکھتے ہی روک لیتے اور ہماری فرمائش کےمطابق پوری فوڈ سٹریٹ میں سے ہمارے پسندیدہ کھانے میز پر چنوا دیتے۔

میرے دوست کی خواہش تھی کہ وہ گھوم پھر ہرڈھابے ہر ریستوران پر کھڑے ہوکر رنگ برنگےکھانوں کی خوشبؤوں سے لطف اندوز ہوں اور پھر جگہ جگہ تھوڑا تھوڑا کھائیں۔

تواس رات ہم نے اسی طرح کا ڈنر کیا۔دراصل کھانے پینے کے شوقین لاہوریوں کے لیے یہ دونوں سہولتیں نئی اور شاندار تھیں یعنی یا تو موبائل ڈنر یا پھر ایک ہی میز پر پورے بازار مینیوکارڈز کی دستیابی۔

اب یہ دونوں سہولتیں نہ صرف ختم ہوچکی ہے بلکہ فوڈ سٹریٹ بھی بیوہ کی اجڑی مانگ کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

اشرف گل جس مقام پر افغانی چپل کباب لگاتے تھے وہاں مجھے ایک آوارہ کتا اپنے پنجوں میں منہ چھپائےنیم خوابیدہ حالت میں ملا۔ کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو سے لبریز متعدد اڈے یاڈھابے بند ہو چکے ہیں۔

خوبصورت ٹف ٹائلز اکھڑی پڑی ہیں عمارتوں کے رنگ روغن مانند دکھائے دینے لگے ہیں کیونکہ ان پر فوکس کیگئی روشنیاں بجھ چکی ہیں۔

یہ فوڈ سٹریٹ نواز شریف کے سیاسی دشمن جنرل پرویز مشرف کےدور حکومت میں قائم کی گئی تھی اور اب نواز شریف کے دور حکومت میں اجاڑ دی گئی ہے۔

گوالمنڈی اورگردونواح میاں نواز شریف کا آبائی علاقہ ہے اور ان کا بچپن ان گلیوں میں گھومتے پھرتے کرکٹ کھیلتے پتنگیں اڑتے اورکھانے کھاتے ہوئےگذرا ہے۔

نو برس پہلے جب یہ فوڈ سٹریٹ قائم کی گئی اوراس کا انتظام گوگی بٹ کے بھائی اور طیفی بٹ کے کزن خواجہ شکیل کےحوالے کیاگیا تونواز شریف حامی بعض حلقوں نےاسے ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھا۔

اس ناپسندیدگی کی وجہ یہ خیال تھا کہ نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی جنرل پرویز مشرف نے جان بوجھ کر ان کےگڑھ میں اپنا مرکز قائم کیا تھا۔

فوجی صدر پاکستان پرویز مشرف ایک سے زائد بار خود اس کے کھانوں سے لطف اندوز ہوچکے ہیں۔

اجڑنے والی فوڈ سٹریٹ کےچند دکانداروں کا خیال ہے کہ شریف دور حکومت میں پرویز مشرف کی دشمنی کے جذبے نے فوڈ سٹریٹ کو اجاڑ دیا ہے۔

فوڈ سٹریٹ کےخاتمے کا کوئی سرکاری اعلان نہیں کیاگیا بس صرف یہ کیا گیا کہ گلی ٹریفک کےلیے کھول دی گئی اور سٹریٹ میں کرسی میز لگانے کو تجاوزات قرار دیدیا گیا۔یہ دلیل بھی دی گئی کہ فوڈ سٹریٹ سے اردگرد کے رہائشیوں کے راستے میں رکاوٹ پڑ رہی تھی۔

فوڈ سٹریٹ کےدکانداروں کا کہنا ہے کہ دو مہینے پہلے پانی کے پائپ ڈالنے کے لیے فوڈ سٹریٹ بندکروائی گئی اور جب دکاندار چھٹیاں منا کر واپس پہنچے تو فوڈ سٹریٹ کےگیٹ اکھڑ چکے تھے۔چھوٹے ریستورانوں اورڈھابوں کے مالکان نے شام کو کرسیاں میزیں بچھائیں تو سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا عملہ اٹھا کر لےگیا۔

فوڈ سٹریٹ اجڑ گئی اشرف گل سمیت وہ تمام چھوٹے دکاندار تو بالکل فارغ ہوگئےجو فٹ پاتھ پر دکان سجا کر بیٹھے تھے البتہ جن کے پاس چھوٹی موٹی عمارت بھی تھی وہ اب بھی اپنا کارو بار جاری رکھے ہوئے ہیں۔گوالمنڈی تکہ شاپ کے مالک عرفان علی انہی خوش قسمت افراد میں سے ایک ہیں لیکن ان کاکہنا ہے کہ وہ گزشتہ دومہینوں میں اس قدر پریشان اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے کہ انہیں جوانی میں ہی ذیابیطس اور بلڈپریشر کےمرض لاحق ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب میزیں گلی میں لگتی تھیں تو ان کی دکان لاہوریے سو سے ڈیڑھ سو کلوگرام گوشت کےتکے کباب کڑاھی گوشت ہانڈی گوشت وغیرہ کھاجاتے تھے۔اب بمشکل بیس سے پچیس کلو گوشت آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ اوپن ائر گلی میں بیٹھ کر انواع اقسام کے کھانوں سے لطف اندوز ہونا چاہتے تھےاندر بیٹھ کر کھانے کے لیے تو پورا لاہور ائرکنڈیشن اور ایک ایک ریستورانوں اور ہوٹلوں سے بھرا ہوا ہے۔

فوڈ سٹریٹ کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ ذائقہ ورائٹی اورحسین ماحول تینوں چیزیں اس کھانوں کی اس گلی میں موجود تھیں۔مقامی لوگوں کے علاوہ سیاحوں کی بڑی تعداد آتی تھی اور اس گلی کی یاترا کے بغیر لاہور کا سفرمکمل نہیں ہوتا تھا۔

فوڈ سٹریٹ پر کھانے کے لیے آنے والی خاتون رخسانہ لیاقت نے کہا کہ اب یہ نام کی فوڈ سٹریٹ رہ گئی ہے اس میں کچھ ایسا نہیں بچا کہ خاص طور پر یہاں آیا جائے۔

ایک دکاندار نے کہا کہ وہ توخوف کے مارے احتجاج بھی نہیں کرتے بس اتنا ہی کہنا چاہتے ہیں کہ بغض معاویہ میں لاہور کی اہم ترین ثقافتی نشانی کو مٹا دیا گیا ہے۔