سردار رستم جمالی کون؟

- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سردار رستم جمالی نے انیس سو تیریسٹھ میں سردار یار محمد جمالی کے گھر روجہاں جمالی میں پیداہوئے۔ وہ سردار یار محمد جمالی کے بڑے فرزند ہیں۔
سردار رستم جمالی سابق وزیراعظم میرظفراللہ خان جمالی کے بھانجے جبکہ سابق وزیراعلیٰ میر تاج محمد جمالی اور ڈپٹی چیئر مین سینٹ جان محمد جمالی کے قریبی رشتہ دار تھے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم ایجی سن کالج لاہور اور ایف اے گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی جبکہ گریجویشن جامعہ بلوچستان سے مکمل کی۔
انہوں نے پہلی بارجعفر آباد سے آزاد حیثیت میں میر جان محمد جمالی کے مدمقابل صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا لیکن کامیاب نہ ہوسکے 1990 ءمیں چیئرمین ضلع کونسل منتخب ہوئے اور فروری 2008 ءمیں ہونے والے عام انتخابات میں حلقہ پی بی 25 ون سے آزاد حیثیت میں بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور حکومت سازی کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت کا اعلان کیا۔بعد میں انہیں وزارت ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا قلمدان سونپاگیا
سردار رستم جمالی نے آٹھارہ جولائی کو سندھ اوربلوچستان کے مابین پانی کے تنازعے پر ان کا قابل ذکر کردار رہا انہوں نے انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ حکومت نے بلوچستان کے زمین داروں کوان کے حصے کاپانی نہ دیا توصوبائی حکومت کے ذریعے حب ڈیم سے کراچی شہر کو پانی کی سپلائی روک دیں گے۔
ادھر کوئٹہ میں بلوچستان حکومت کے صوبائی وزراء میر شاہنواز مری اور کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکیشین سردار رستم خان جمالی کے بہیمانہ قتل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ کھلی دہشتگردی کا واقعہ ہے
سرداررستم جمالی کے بھا ئی سردار ناصرخان جمالی کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی اور نہ ہی کسی نے انہیں کوئی دھمکی وغیر ہ دی تھی ان کے مطابق سردار رستم جمالی کی میت جمعہ کے روز انکے آبائی قبرستان روجہان جمالی میں سپرد خاک کر دی جائے گی ۔


















