’بندوق تاننے پر ملک بدری بھی ممکن‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کا کہنا ہے کہ پاکستانی پولیس افسر پر گن تاننے پر امریکی سفارت کار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ جلد ہی وزارت داخلہ سے موصول ہوجائے گی اور اس معاملے کی سنجیدگی کو دیکھنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ اس ضمن میں امریکی سفیر کو طلب کیا جائے یا سفارتخانے کے کسی اور متعلقہ شخص کو۔
اُدھر امریکی سفارت خانے کے ترجمان رچرڈ سنلزر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سفارت خانے کے متعلقہ اہلکار پاکستانی حکام سے اس ضمن میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ یہ معاملہ اچھے انداز میں حل کرلیا جائے گا۔
واضح رہے کہ دو روز قبل امریکی سفارت خانے کی سکیورٹی پر مامور امریکی اہلکار اور تھانہ سیکرٹریٹ کے ایس ایچ او حاکم خان کے درمیان اُس وقت تلخ کلامی ہوئی تھی جب وہ اہلخانہ کے ہمراہ امریکی سفارتخانے کے پاس سے گُزر رہے تھے۔ تلخ کلامی کے بعد امریکی سفارتخانے کے سکیورٹی اہلکار نے مذکورہ پولیس انسپکٹر پر بندوق تان لی تاہم وہاں پر موجود نجی سیکورٹی ایجنسی کے اہلکاروں نے بیچ بچاؤ کروا دیا۔
امریکی سفارت خانہ تھانہ سیکرٹریٹ کی حدود میں ہی واقع ہے۔ پولیس انسپکٹر حاکم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پہلے مذکورہ امریکی سفارت کار کے خلاف مقدمہ درج کروانا چاہتے تھے تاہم انہوں نے متعلقہ پولیس افسران سے بات کرنے کے بعد اس واقعہ کا اندراج روزنامچے میں کرنے کے بعد اس کی ایک تفصیلی رپورٹ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو بھجوا دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ امریکی سفارت خانے کی کار پارکنگ کے پاس ہوا جہاں پر عام طور پر اُن افراد کو چیک کیا جاتا ہے جو ویزے کے حصول کے لیے آتے ہیں۔ تھانہ سیکرٹریٹ کے ایس ایچ اور کا کہنا تھا کہ چونکہ اُس کی رہائش ڈپلومیٹک انکلیو میں ہی ہے اس لیے وہاں پر تعینات سکیورٹی عملہ اُنہیں اچھی طرح جانتا ہے۔ ایس ایچ او سیکرٹریٹ نے الزام عائد کیا کہ امریکی سفارت خانے کے سکیورٹی اہلکار نے نہ صرف اُنہیں بُرا بھلا کہا کہ پاکستان کے خلاف بھی غلط الفاظ استعمال کیے۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ کے دفتر کے ایک اہلکار کے مطابق اس واقعہ کی رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوا دی گئی ہے جس کے بعد اس رپورٹ کو وزارت خارجہ کو بھیجا جائے گا۔


















