'بے نظیر بلیاں پالنے کی شوقین تھیں'

میگی گاماگے
،تصویر کا کیپشنمیگی گاماگے کو نظیر بھٹو کے دور حکومت میں تین سال وزیراعظم ہاؤس میں خادمہ کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، کولمبو
  • وقت اشاعت

پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی خبر جب74سالہ میگی گاماگے ، نے سنی تھی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھیں اور انہیں ایسا لگا تھا جیسے ان کا کوئی اپنا جدا ہوگیا ہو۔

میگی گاماگے کولمبو ڈسٹرکٹ کے ایک گاؤں روون پورہ میں رہتی ہیں۔انہیں بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں تین سال وزیراعظم ہاؤس میں خادمہ کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا اور آج ان کے پاس بے نظیر بھٹو کی یادوں کا بہت بڑا خزانہ موجود ہے۔

میرے میگی گاماگے تک پہنچنے کی کہانی آسان ہے ۔ان کا بیٹا سری لنکن کرکٹ بورڈ میں ڈرائیور ہے جس سے روز اسٹیڈیم میں ملاقات ہوتی ہے۔ ایک دن باتوں باتوں میں اس نے مجھے بتایا کہ اس کی والدہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کام کرچکی ہیں اور پھر ایک دن میں ان خاتون کے سامنے تھا۔

سادہ سی ساڑھی میں ملبوس سیاہ رنگت کی میگی گاماگے طبعیتاً بھی بہت سادہ ہیں اردو بول لیتی ہیں اس کی وجہ ان کا پاکستان میں چودہ سال کے طویل عرصے ملازمتیں کرتے رہنا ہے تاہم ان کے تین بیٹے اور چار بیٹیوں کو اردو نہیں آتی اور وہ اپنی ماں سے انگریزی یا سنہالی میں بات کرتی ہیں۔

میگی گاماگے سے میرا سوال یہ تھا کہ آپ بے نظیر بھٹو تک کیسے پہنچیں؟ ۔

’ میں سری لنکا سے جب ملازمت کے لئے کراچی گئی تو وہاں بیگم راشداللہ خان کے یہاں کام کیا جو بے نظیر بھٹو کی دوست تھیں جس کے کچھ عرصے کےبعد میں نے بے نظیر بھٹوکے یہاں بھی تین سال کام کیا‘۔

میگی گاماگے
،تصویر کا کیپشنمیگی گاماگےکا کہنا ہے کہ بے نظیر کو کھانے میں دال پسند تھی۔

آپ کے ذمہ کیا کام ہوتا تھا’ گھر کا کام کاج میں کرتی تھی اور جب بلاول پیدا ہوا تو پھر اس کی دیکھ بھال بھی کرتی تھی حالانکہ اس کام کے لئے باقاعدہ ایک اور خاتون بھی تھیں لیکن میں نے بلاول کو اپنےہاتھوں میں کھلایا ہے‘۔

میگی گاماگے سے میں نے پوچھا کہ بے نظیر بھٹو عادتاً گھر میں کیسی تھیں؟ وہ بولیں’ اچھی تھیں۔ کام کے معاملے میں نظم وضبط کی پابند تھیں۔ملکی معاملات نمٹانے کے لئے وہ گھنٹوں دفتر میں رہتی تھیں رات کو ہی ہم انہیں دیکھ پاتے تھے‘۔

ملازموں سے ان کا رویہ کیسا تھا؟ میرے پوچھنے پر میگی کہنے لگیں’ ان کا انداز حاکمانہ نہیں تھا۔شور چیخ وپکار نہیں کرتی تھیں بلکہ اچھے طریقے سے بات کرتی تھیں۔ غیرضروری گفتگو نہیں کرتی تھیں۔ مجھ سے کوئی کام ہوتا تو آواز دیتیں میگی ادھر آؤ۔‘

آپ کے خاص تہوار والے دنوں میں وہ کیا آپ کو مبارکباد دیتی تھیں ؟ میگی کہتی ہیں’ انہیں پتہ چلتا تھا کہ ہمارا کوئی تہوار ہے یا کوئی خاص دن تو خوش ہوتی تھیں اور’ عیدی ‘ بھی دیتی تھیں اور چھٹی بھی ملتی تھی‘۔

میرے اس سوال پر کہ ملکی امور اور گھر داری سے وقت بچتا تھا تو کیا بے نظیر بھٹو کا کوئی اور بھی مشغلہ تھا؟ میگی کہنے لگیں’ بلیاں پالنے کی وہ بہت شوقین تھیں۔ ان کے ایک کمرے میں پچیس کے لگ بھگ بلیاں تھیں جن کا وہ بہت خیال رکھتی تھیں اور ان سے کھیلتی تھیں‘۔

بے نظیر بھٹو کو کھانے میں کیا پسند تھا؟ میگی نے جواب دیا’ دال شوق سے کھاتی تھیں‘۔

میگیگاماگے کو بے نظیر بھٹو کی شادی کی تقریب بھی اچھی طرح یاد ہے جس کےبارے میں وہ کہتی ہیں’یہ تقریب بہت زبردست تھی میں قریب جاکر انہیں نہیں دیکھ سکی تھی دور سے دیکھا وہ دلہن کےروپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں‘۔

میگی کے لئے خوشی کے اس لمحے سے زیادہ کربناک گھڑی وہ تھی جب انہوں نے یہ سنا کہ ان کی مالکن اب اس دنیا میں نہیں رہیں تو انہیں یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے’ میرے بچے مجھے روتا دیکھ رہے تھے پہلے تو ان کی سمجھ میں نہیں آیا لیکن بعد میں انہیں بھی اندازہ ہوگیا کہ یہ آنسو کسی اپنے کے لئے ہی گررہے ہیں ‘۔

میگی گاماگے نے اس سوال کا جواب نفی میں دیا کہ پاکستان سے آنے کے بعد کیا کبھی بے نظیر بھٹو نے آپ سے رابطہ کیا البتہ وہ بے نظیر کی سالگرہ پر کارڈز بھیجتی تھیں۔

میں نے گفتگو ختم کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری آپ کو کیسے لگے؟ میگی کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ آئی جسے چھپاتے ہوئے ان کا جواب تھا’ اچھے ہیں‘۔