طالبان مخالفت پر دو افراد ’ذبح‘

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق دو ایسے افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں مقامی طالبان نے ذبح کر کے ہلاک کر دیا ہے۔
طالبان نے بھی اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
مہمند ایجنسی کی تحصیل لکڑو سے موصول ہونے والی اطلاعات میں پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق مولانا شہزاد گل اور رسول شاہ کی لاشیں سنیچر کی صبح تحصیل لکڑو کے علاقے کندارو کے قریب سے ملی ہیں اور ان دونوں کو ذبح کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔
ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کے سر قلم کر کے ایک نالے میں پھینکے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا شہزادگل مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان کے ایک کمانڈر تھے لیکن کچھ عرصہ پہلے ایک قبائلی جرگے کے ذریعے انہوں نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے جبکہ پچاس سالہ رسول شاہ مہمند ایجنسی میں امن کمیٹی کے سرگرم رُکن تھے۔
انتظامیہ کے مطابق دونوں افراد کوگزشتہ روز ان کے گھروں سے اغواء کیا گیا تھا۔
مقامی لوگوں نے دونوں لاشیں تحویل میں لینے کے بعد انہیں کندارو کے علاقے میں سپرد خاک کر دیا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے کمانڈر قاری شکیل نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پہلے بھی مہمند ایجنسی میں دو افراد نے طالبان کی مخالفت کی تھی بعد میں وہ کراچی فرار ہوگئے لیکن وہاں بھی ان کو تحریک طالبان کے ساتھیوں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔


















