سوات: مزید پانچ لاشیں

سوات
،تصویر کا کیپشناب تک سوات کے مختلف علاقوں سے تین درجن کے قریب لاشیں مل چکی ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سوات
  • وقت اشاعت

جنگ سے متاثرہ صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں لاشیں ملنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق مزید پانچ افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ طالبان جنگجو ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سوات کے علاقے انگھروڈیرئی اور کانجو سے چار افراد کی لاشیںملی ہیںجنہیں سروں میں گولیاں ماری گئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاشیں دریا کے کنارے پڑی ہوئی تھیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مرنے والے افراد کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے جبکہ ان کے چہرے بھی بری طرح مسخ شدہ ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت میں مشکل ہورہی تھی۔

ایک عینی شاہد نے کہا کہ لاشوں کی حالت دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ان افراد کو کئی دن پہلے ہلاک کیا گیا ہے۔ ان کے بقول ہلاک ہونے والے تمام طالبان جنگجو ہیں جن کا تعلق قریبی علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔

ادھر مینگورہ شہر کے نواحی علاقے آمان کوٹ سے بھی ایک لاش ملی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ایک طالبان جنگجو تھا۔

سوات میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے مبینہ طالبان جنگجوؤں کی لاشیں ملنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اب تک سوات کے مختلف علاقوں سے تین درجن کے قریب لاشیں مل چکی ہیں۔ ان لاشوں کے حوالے سے حکومت کی جانب سے تاحال کوئی واضح موقف سامنے نہیں آسکا ہے۔

چند دن پہلے مالاکنڈ ڈویژن کے کمشنر فضل کریم خٹک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ ان افراد کی ہلاکت میں کون لوگ ملوث ہیں۔

سوات میں جب طالبان سرگرم عمل تھے تو اس وقت وہ اپنے مخالفین اور سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کرکے ان کی لاشیں چوکوں اور چوراہوں میں لٹکاتے تھے۔