سوات: سی ڈی دکانیں اور خواتین بازار

سوات
،تصویر کا کیپشنسوات میں خواتین ہی کو نہیں بچیوں تک کو انتہائی دشوار وقت سے گزرنا پڑا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان کے حملوں اور خوف کی وجہ سے تقریباً دو سال تک بند رہنے والی سی ڈیز، میوزک سنٹرز اور فلمیں فروخت کرنے والی دوکانیں دوبارہ کھول گئی ہیں جب کہ مینگورہ میں خواتین بازاروں کے رونقیں بھی بحال ہوگئیں ہیں۔

سوات کے صدر مقام مینگورہ میں فوجی آپریشن کے بعد پہلی مرتبہ سی ڈیز، میوزک اور فلمیں فروخت کرنے والے دوکانداروں نے دوبارہ کام کا آغاز کردیا ہے اور شہر میں تقریباً ایک درجن سے زائد دوکانیں کھل گئیں ہیں۔

مینگورہ کے مقامی صحافی شیرین زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں ایک لمبے عرصے تک بند رہنے والے سی ڈیز، فلموں، وڈیو گیمز کی دوکانیں اور نیٹ کیفے دوبارہ کھل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پلوشہ سنیما مارکیٹ اور ملک مارکیٹ میں تقریباً ایک درجن سے زائد دوکانیں کھل گئیں ہیں جہاں فلمیں، پشتو میوزک اور ڈرامے فروخت کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مارکٹیوں کے باہر ہتھ ریڑھیوں پر بھی میوزک اور سی ڈیز کے انبار لگے ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق شہر میں پہلے جیسا خوف نہیں رہا اس لیے سی ڈیز اور میوزک کی دوکانیں کھل رہی ہیں تاہم اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر میں طالبان کی دھمکیوں کی وجہ سے بند ہونے والے تمام زنانہ بازار بھی کھل گئے ہیں جس کے ساتھ ہی میک اپ، کاسمیٹکس اور خواتین کے کپڑے فروخت کرنے والی دوکانوں میں بھی خرید و فروخت شروع ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مینگورہ کے بازاروں میں خواتین اب پہلے کے مقابلے میں بڑی تعداد میں خریداری کرتی نظرآتی ہیں۔

مینگورہ میں سی ڈیز اور میوزک کے تقریباً سو سے زائد دوکانیں قائم تھیں۔ ان میں کئی درجن دوکانیں یا تو حملوں میں تباہ ہو گئیں یا طالبان کے خوف کے باعث بند کر دی گئیں جب کہ اس کاروبار سے وابستہ زیادہ تر لوگوں نے یہ کام ترک کرکے دوسرے کام شروع کر دیے تھے۔

اس کے علاوہ طالبان نے موسیقی کے پیشہ سے وابستہ سوات کے کئی گلوکاروں اور طوائفوں پر بھی حملے کیے جس کے نتیجے میں تمام فنکار وادی چھوڑ کر دوسرے شہروں کو کوچ کر گئے۔

اس سال کے آغاز پر جب طالبان مینگورہ شہر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو انہوں نے وہاں بازاروں میں خواتین کے جانے پر بھی پابندی لگا دی جس سے تمام زنانہ بازار ویران ہوگئے تھے۔ انہوں نے بعض مارکیٹوں میں بینرز لگا کر وہاں خواتین کی آمد ممنوع قرار دے دی تھی۔

سوات میں دوہزار سات میں طالبان کے منظر عام پر آنے کے بعد ضلع بھر میں سی ڈیز اور انڈین فلمیں فروخت کرنے والی دوکانوں پر حملے شروع ہوئے تھے۔