الفتح کانگریس میں نوجوانوں کی فتح

مروان برغوتی
،تصویر کا کیپشناسرائیل کی جیل میں مقید مروان برغوتی فلسطین کے ہر دلعزیر رہنما تصور کیے جاتے ہیں
وقت اشاعت

فلسطینی جماعت الفتح کی کانگریس کےانتخابات میں صدر محمود عباس نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے جبکہ ان کے کچھ قریبی ساتھیوں کو شکست ہوئی ہے۔

الفتح کی بیس سال میں یہ پہلی کانگریس ہے جس میں پرانی کانگریس کے اٹھارہ میں چودہ اراکان اپنا مقام برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں ۔

اسرائیل میں قید فلسطینی رہنما مروان برغوتی کامیاب رہے ہیں۔ فلسطین کی سکیورٹی کے سربراہ محمد داہلان بھی اپنی پوزیش برقرار رکھنےمیں کامیاب ہوئے ہیں۔مروان برغوتی فلسطین کے ایک ہردلعزیز رہنما ہیں جبکہ محمد داہلان کو حماس سخت ناپسند کرتی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ الفتح اپنے نیا چارٹر بھی جاری کرے گی جس میں اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے پرانے عہد کو ختم کیے بغیر دو ریاستی حل کی حمایت کی جائے گی۔

کانگریس کے مندوبین نے کہا ہے کہ نیا چارٹر ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوا ہے لیکن الفتح 1967 کے بارڈرز تک جانے کی بات کرے گے اور مزاحمت کے حق سے دستبردار نہیں ہو گی۔

بیت اللحم میں منعقدہ اس کانگریس میں تقریباً دو ہزار مندوبین حصہ لے رہے ہیں۔ غزہ کی پٹی سے آنے والے تقریبًا چار سو مندوبین کو الفتح کے حریف دھڑے حماس نے بیت الحم آنے سے روک دیا تھا۔ تین روزہ کانگریس آٹھ روز سے جاری ہے اور اپنی اس کے خاتمے کا اعلان نہیں ہوا ہے۔

الفتح جو 2006 میں حماس سے انتخابات ہار گئی تھی اور پنے امیج کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فتح کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ ایک بدعنوان اور غیر مؤثر جماعت ہے اور اب لڑنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکی ہے۔

ابتدائی نتائج کےمطابق الفتح کانگریس کے پرانے اٹھارہ اراکان میں چودہ اپنی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکے ہیں اور ان کی جگہ نئے لوگ الفتح کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں۔

اسرائیل نے بیرون ملک مقیم تقریبًا پانچ سو مندوبین کو کانگریس میں شرکت کےلیے سفر کی اجازت دی تھی۔

کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا تھا کہ ’فلسطینی اسرائیل کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن مزاحمت کا راستہ ہمیشہ کھلا ہے۔‘