’خالد شیخ کا نام فہرست میں ڈالا جائے‘

خالد شیخ محمد
،تصویر کا کیپشنخالد شیخ محمد پر گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

سندھ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ امریکہ میں نائن الیون کے حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں قید القاعدہ کے رہنما خالد شیخ محمد کا نام بھی گوانتانامو میں قید پاکستانی شہریوں کی فہرست میں شامل کیا جائے اور ان کے بارے میں اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے منگل کو یہ ہدایت خالد شیخ کی بہن مریم کی درخواست پر سماعت کے موقعے پر جاری کی ہے۔

مسماۃ مریم کے وکیل عبدالقادر جتوئی نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے گوانتانامو میں قید جن پاکستانی شہریوں کی تفصیل عدالت میں جمع کرائی ہے ان میں خالد شیخ کا نام شامل نہیں ہے جبکہ وہ گوانتا نامو میں قید ہیں۔

ایڈووکیٹ جتوئی نے شیخ خالد کےاس تحریری بیان کی کاپی بھی عدالت میں پیش کی جو انہوں نے دیگر ملزمان کے ساتھ نیویارک میں گیارہ ستمبر کے واقعے کی سماعت کرنے والی نیویارک کی عدالت میں دیا ہے۔

اس بیان میں امریکی حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے نو الزامات کا تفصیلی جواب دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں قرآنی آیات کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ نائن الیون شوریٰکونسل کے نام سے تحریری اس بیان میں ملزمان نے الزامات کو اعزاز قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ وہ اپنی قوم، مذہب اور زمین کے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں۔

یہ بیان گوانتانامو میں خالد شیخ محمد، ولید بن اتاش، رمزی بن شیبہ، علی عبدالعزیز اور مصطفٰی احمد نے تحریر کیا ہے۔

چیف جسٹس سرمد جلال عثمانی نےاس بیان کو سرسری طور پر پڑھا اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو کہا کہ انہوں نے جو تفصیلات فراہم کی ہیں وہ درست نہیں ہیں، لہٰذہ انہیں درست کرکے پیش کیا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ شیخ خالد کے مقدمے کی پیروی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ سماعت اٹھائیس اگست تک ملتوی کردی گئی۔

یاد رہے کہ شیخ خالد کی بہن مریم نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ خالد شیخ محمد پاکستانی شہری ہیں لیکن انہیں پاکستانی حکام نے حراست میں لے کر امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ حکومت پاکستان کو اس بات کی وضاحت کرنے کی ہدایت کرے کہ انہیں کس قانون کے تحت پاکستان سے امریکہ منتقل کیا گیا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت حکومت کو ہدایت کرے کہ وہ خالد شیخ کو ملک واپس بلائے اور اگر ان پر الزامات ہیں تو ان پر ملکی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور اگر پاکستان حکومت ایسا نہیں کرسکتی ہے تو اقوام متحدہ سے مدد حاصل کی جائے۔ عدالت میں ایڈووکیٹ جتوئی نے ریڈ کراس کی جانب سے بھیجی گئی شیخ عمر اور علی بن عبدالعزز کی تازہ تصاویر بھی عدالت میں پیش کیں۔