انسپکٹر پر تشدد، وکلا کے خلاف مقدمہ

وکلاء نے پولیس اہلکار کو مبینہ طور پر لاہور ہائی کورٹ کے باہر تشدد کا نشانہ بنایا
،تصویر کا کیپشنوکلاء نے پولیس اہلکار کو مبینہ طور پر لاہور ہائی کورٹ کے باہر تشدد کا نشانہ بنایا
    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی پولیس نے ہائیکورٹ کے باہر ایک سب انسپکٹر کو تشدد بنانے اور قتل کے ملزم کو چھڑانے کے الزام میں دس وکیلوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

پولیس نے یہ مقدمہ مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بننے والے سب انسپکٹر ریاست علی کی درخواست پر درج کیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حملہ کرنے والے وکلا نے مدعی سب انسپکٹر سے اس کے سرکاری دستاویزات اور موبائل فون بھی چھین لیا۔ مقدمہ سرکاری کام میں مداخلت اور بلوا کرنے سمیت دیگر قانونی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

گزشتہ چند روز میں وکیلوں کی طرف سے کسی پولیس اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے تین وکلا نے لاہور کی سیشن کورٹ کے احاطے میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

فیصل آباد پولیس کے سب انسپکٹر ریاست کے بقول وہ قتل کے ایک ملزم کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری کے سلسلہ میں لاہور ہائی کورٹ کے روبرو پیش ہوئے اور عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت منسوخ کردی اور جب ملزم کو لاہور ہائی کورٹ کے احاطے کے باہر سے گرفتار کرنے کی کوشش کی تو ملزم کے وکلا اور ان کے ساتھیوں نے حملہ کردیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور وردی بھی پھاڑی دی۔ سب انسپکٹر کے مطابق وکلا کے حملہ کی وجہ سے ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔

سب انسپکٹر ریاست نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد انہوں نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہو کر انہیں تمام صورت حال سے آگاہ کیا اور اس کے بعد قانونی کارروائی کے لیے پولیس اسٹیشن میں درخواست دی۔

پولیس سٹیشن مزنگ کے ایس ایچ او اعظم مہنس کے مطابق وکلا کے خلاف جو مقدمہ درج کیا گیا اس میں دو وکیلوں کو نامزد جبکہ دیگر نامعلوم افراد شامل ہیں۔