کم عمر شادیوں پر پابندی کا بل

نوجوان خواتین
،تصویر کا کیپشنترمیمی بل منظور کرتے وقت اسلامی قوانین کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا: وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان میں اٹھارہ برس سے کم عمر والے لڑکے اور لڑکیوں کی شادی پر پابندی لگانے سے متعلق بل منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔حکومت کی طرف سے بل کی مخالفت نہ کرنے پر سپیکر نے بل کو ایوان کی مذہبی امور سے متعلق قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا ہے۔

اٹھارہ برس سے کم عمر کی شادیوں پر پابندی کے بارے میں مسلم لیگ (ق) کی رکن بیگم عطیہ عنایت اللہ نے پیش کیا اور تجویز کیا کہ بچوں کی شادی سے متعلقہ انیس سو انتیس کے قانون میں ترمیم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بچوں کے متعلق کنوینشن میں اٹھارہ برس سے کم عمر والوں کو بچہ تصور کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں مروجہ قانون کے مطابق سولہ سالہ لڑکی کی شادی کی اجازت ختم کی جائے۔ انہوں نے اپنے بل میں تجویز دی ہے کہ اٹھارہ برس سے کم عمر کی شادی کرانے والے کی سزا ایک ماہ سے بڑھا کر دو برس کی قید اور جرمانہ کی حد ایک ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کی جائے۔

بیگم عطیہ عنایت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اپنے ترمیمی بل میں یہ بھی تجویز دی ہے کہ کم عمر کی شادی کے معاملات میں کارروائی مجسٹریٹ کے بجائے فیملی کورٹ کرے اور اگر ایسی کسی شادی کی عدالت کو تاخیر سے اطلاع ملے تو شادی کے ایک سال گزرنے تک بھی عدالت کو کارروائی کا اختیار ہونا چاہیے۔

قومی اسمبلی میں جب انہوں نے یہ بل پیش کیا تو مذہبی امور کے وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی نے کہا کہ یہ ترمیمی بل منظور کرتے وقت اسلامی قوانین کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے بل کی مخالفت نہیں کی اور سپیکر نے مزید کارروائی کے لیے یہ بل ایوان کی مذہبی امور کی قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا۔

واضح رہے کہ اسلام میں بلوغت کے بعد شادی کی اجازت ہے۔ لیکن بیگم عطیہ عنایت اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کم عمر کی شادی کے لیے قرآن میں صرف بلوغت کی آیت کو ہی بنیاد نہیں بنانا چاہیے بلکہ دیگر آیات جو کفالت اور ذمہ داریوں کے متعلق ہیں انہیں بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن خالدہ منصور نے خواتین سرکاری ملازمین کو اپنے گھروں کے قریب تعینات کرنے کے بارے میں سول سرونٹس ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا۔ جس کی بھی حکومت نے مخالفت نہیں کی اور سپیکر نے بل پر مزید کارروائی کے لیے اُسے ایوان میں متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا۔

پیپلز پارٹی کی خاتون رکن یاسمین رحمٰن، عذرا فضل پیچوہو اور دیگر اراکان نے خصوصی افراد کے کوٹہ کے غلط استعمال کو روکنے ایک بل پیش کیا۔ جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ بنانے والا ادارہ ’نادرا‘ معذور افراد کو خصوصی کارڈ جاری کرے تاکہ انہیں سفری سہولیات سمیت دیگر سہولیات آسانی سے میسر کی جاسکیں اور کوئی اس کا غلط فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ بل بھی ایوان کی متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) کی ایک خاتون رکن بیگم عشرت اشرف نے نجی بینکوں کو ریگولیٹ کرنے کےلیے ایک نیا ادارہ بنانے کے متعلق ترمیمی بل پیش کیا۔ جس کی بھی حکومت نے مخالفت نہیں کی اور سپیکر نے یہ بل بھی ایوان کی متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا۔

واضح رہے کہ منگل کو ایوان میں نجی کارروائی کا دن ہوتا ہے اور پیش ہونے والے چاروں بل حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اراکین اسملبی نے پیش کیے۔