عامر خان ضمانت منظور، رہائی پر شک

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
سندھ ہائی کورٹ نے مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما عامر خان کی دوہرے قتل کے مقدمے میں ضمانت منظور کرلی ہے تاہم ان کے وکیل نے اس شبے کا اظہار کیا ہے کہ ان کے مؤکل کو رہا نہیں کیا جائے گا۔
عامر خان کے وکیل الیاس خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عامر خان تمام مقدمات سے بری ہوچکے ہیں اور یہ ان پر آخری مقدمہ تھا۔ انہوں نے اس شبہ کا اظہار کیا کہ ان کے مؤکل کو رہائی نہیں ملے گی اور جیل میں ہی انہیں محکمہ داخلہ کی جانب سے ایم پی او کے تحت قید رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر ایسا کیا گیا تو وہ سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔
حقیقی کے رہنما عامر خان پر الزام ہے کہ انہوں نے سنہ دو ہزار تین میں کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقے دو سو پچپن کے ضمنی انتخابات میں فائرنگ کرکے متحدہ قومی موومنٹ کے دو ارکان انعم عذیر اور محمد نعیم کو قتل کردیا تھا۔ دو ہزار چار کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے انہیں دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔
عامر خان نے اس سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ جسٹس مشیر عالم اور جسٹس اطہر سعید کی عدالت میں ان کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔
عامر خان کے وکلا الیاس خان اور محمد فاروق نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس مقدمے میں سزا پوری کرچکے ہیں یا تو انہیں اس مقدمے سے بری کیا جائے یا ان کی سزا کو معطل کیا جائے۔
حکومت کی جانب سے سابق ایڈووکیٹ جنرل فروغ نسیم، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدنان کریم اور سرور خان ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ انہوں نے ضمانت کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ اپیل ہی قابل سماعت نہیں ہے۔
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عامر خان کی دس لاکھ رپے کی ضمانت منطور کرلی ہے اور ان کی رہائی کا حکم جاری کیا۔
یاد رہے کہ ایم کیو ایم حقیقی کے رہنما عامر خان ایک عرصے تک روپوش رہے جس کے بعد انہیں دو ہزار تین میں گرفتار کیا گیا تھا۔ کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگز کے واقعات میں سب سے زیادہ متاثر ان کی جماعت ہو رہی ہے، انسانی حقوق کمیشن کے مطابق ماہ جولائی میں چالیس سیاسی کارکنوں کو گھات لگاکر قتل کیا گیا جن میں سے سترہ کا تعلق مہاجر قومی موومنٹ حقیقی سے تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حقیقی کا یہ موقف رہا ہے کہ ان کے رہنماوں کی رہائی قریب ہوتے ہیں ان کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کیا گیا ہے۔






















