’نئے حکومتی فارم غیرمتعلقہ، غیرضروری‘

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان میں دینی مدارس کی ایک بڑی تنظیم وفاق المدارس العربیہ نے حکومت کی جانب سے مدارس کو بھیجے جانے والے تازہ سروے فارمز میں مانگے جانے والے کوائف کو غیرمتعلقہ اور غیرضروری قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا ہے۔
ملک میں ساڑھے بارہ ہزار مدارس کی نمائندہ تنظیم وفاقی المدارس کے سیکرٹری جنرل حنیف جالندھری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومت کو ایک فارم کے مسودے پر متفق ہونے اور کوائف حاصل کرنے کے نظام کو مربوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے اسلام آباد اور دیگر شہروں میں مدارس کو نئے سروے فارمز کی تقسیم کو اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ماضی میں حکومت سے طے شدہ معاملات اور اتفاق سے انحراف ہے۔
حنیف جالندھری نے سابق حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ حکومت اس بات کی پابند تھی کہ اسے جس قسم کی بھی معلومات درکار ہوں وہ انفرادی طور پر مدرسے سے رجوع کرنے کی بجائے ان کے وفاق سے رابطہ کرے گی۔ ’اگر حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ پچھلی حکومت سے معاہدہ تھا تو پھر بھی ان فارموں کی تقسیم سے قبل ہم سے رابطہ کرنا ضروری تھا۔‘
’مدارس کھلی کتاب ہیں۔ ہم معلومات فراہم کرنے کے مخالف نہیں۔ ہمارا مطالبہ محض یہ ہے کہ پہلے حکومت کے ساتھ ایک سروے فارم کے متفقہ مسودے پر متفق ہو جائیں اور اس کا ایک طریقہ کار وضح کریں جوکہ سہل بھی ہو اور مفید بھی۔‘
مدارس کی تشویش کی وجہ یہ ہے کہ چند روز قبل اسلام آباد میں واقع تمام مدارس کو حکومت کی جانب سے نئے سروے فارم تقسیم کیے گئے ہیں جن میں مزید معلومات کا تقاضہ کیا گیا ہے۔
حنیف جالندھری کا کہنا تھا کہ کبھی مقامی ایس ایچ اور اور کبھی کوئی اور فارم اٹھا کر مدارس میں روز روز آ جاتے ہیں جس سے ان کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔ ’حکومت کے اندر رابطہ نہیں ہے۔ اگر حکومت ایک فارم اور اس میں درکار معلومات پر متفق ہو جائے تو ہم خود مدارس کو ہدایت دیں گے کہ وہ انہیں پھر کر واپس کر دیں۔‘
مدارس کی اس تنظیم نے فارم وصول کرنے والے مکتبوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا انتظار کریں۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے ساتھ یہ مذاکرات پندرہ اگست کو اسلام آباد میں متوقع ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















