بلوچستان کمیٹی کی رپورٹ منظور

بلوچستان
،تصویر کا کیپشنپاکستان پیپلز پارٹی نے بلوچستان کے بارے میں آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے کا اعلان بھی کیا ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بلوچستان کے بارے میں قائم کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دے دی ہے۔

کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ آج صدر اور وزیر اعظم کو پیش کر دی ہے لیکن اس رپورٹ کے تفصیلات ذرائع ابلاغ کو جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

صدر کے ترجمان سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس بارے میں مزید اقدامات ملک کی سیاسی قیادت خاص طور پر بلوچستان کی قیادت سے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے۔

پیپلز پارٹی کی اس کمیٹی میں سینیٹر رضا ربانی، سینیٹر لشکری رئیسانی، وفاقی وزراء راجہ پرویز اشرف، سید خورشید شاہ اور نوید قمر شامل ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ اس کمیٹی نے سابق دور میں قائم وسیم سجاد اور مشاہد حسین کی رپورٹس کے اہم نقاط بھی شامل کیے ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ جن اہم مسائل کو اس رپورٹ میں توجہ دی گئی ہے ان میں صوبے کے وسائل پر اختیار، لیویز نظام کی بحالی اور بلوچستان میں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی ہلاکت کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے بلوچستان کے بارے میں آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے کا اعلان بھی کیا ہے لیکن اب تک اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس بارے میں معلومات حاصل کی جارہی ہیں اور بلوچستان کی سیاسی قیادت سے رابطوں کے بعد کوئی حتمی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

ایسی اطلاعات ہیں وفاقی حکومت آل پارٹیز کانفرنس سے پہلے کچھ اہم فیصلے کر سکتی ہے تاکہ مذاکرات کے لیے بہتر ماحول بنایا جا سکے۔

بلوچستان میں دسمبر سن دو ہزار پانچ میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا اور چھبیس اگست دو ہزار چھ کو بزرگ رہنما نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد بلوچستان میں حالات بگڑنا شروع ہو گئے تھے۔ اس وقت نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ بگٹی اور نواب خیر بخش مری کے بیٹے حیربیار مری بلوچستان کی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔