گوجرہ متاثرین امداد کے منتظر

- مصنف, حفیظ چاچڑ
- عہدہ, بی بی سی، گوجرہ
- وقت اشاعت
گوجرہ سانحے کے دو ہفتے گزرنے کے باوجود حالات معمول پر آنا تو شروع ہوگئے ہیں تاہم خوف کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ گوجرہ کے متاثرہ علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل گشت کررہے ہیں۔
<link type="page"><caption> قوانین کا جائزہ لیا جائے گا: گیلانی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090806_pm_gojra_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
دو ہفتے قبل گوجرہ کی عیسائی برادری فرقہ وارانہ تشدد کا نشانہ بنی اور یہ اس ملک میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عیسائیوں پر الزام تھا کہ وہ مبینہ طور پر قرآن کی بے حرمتی کے مرتکب ہوئے ہیں تاہم انہوں نے اس کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے۔
فیصل آباد سے گوجرہ جاتے ہوئے میں نے ٹیکسی ڈرائیور ظہور سے اس واقعہ کی تفصیلات پوچھی۔ انہوں نے جو بات بتائی، وہ گوجرہ میں کسی اور شخص نے نہیں بتائی۔
ظہور نے کہا ’سر جی بات یہ ہے کہ گوجرہ سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر عیسائیوں کی ایک بستی کوریاں ہے جس میں شادی کی تقریب ہورہی تھی اور وہاں پر ایک کنستر (ڈبہ) بجلی کے کھمبے میں لگا ہوا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ قرانی آیات اس میں ڈالیں۔ تو سر جی شادی کی تقریب میں ایک شخص نے خوشی سے چھ سکّے اچھالے اور کچھ سکے اس ڈبے میں جاگرے۔ بچوں نے سکے حاصل کرنے کے لیے ڈبے میں ہاتھ ڈالا جس کی وجہ سے کچھ اوراق نیچے زمین پر گر گئے۔‘
ظہور کے بقول ’بچے چاہے مسلمان ہوں یا عیسائی، ان کو تو پتہ نہیں ہوتا کہ قرآن کی بے حرمتی کس طرح ہوتی ہے۔ انہیں صرف پیسوں سے غرض ہوتی ہے۔ کسی شخص نے محلے کے مولوی کو بتایا کہ عیسائیوں نے قرآن کی بے حرمتی کی ہے تو اس طرح یہ واقعہ شروع ہوا۔‘
کوریاں میں تقریباً چالیس گھروں کو نذر آتش کیا گیا تاہم وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
کوریاں جہاں سے یہ واقعہ شروع ہوا وہاں کے رہائشی لیاقت مسیح اپنے جلے ہوئے گھر اور سامان کے پاس بے سروسامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے بیٹھے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ واقعہ کس طرح پیش آیا، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’کوئی پتہ نہیں کیا ہوا، کیسے ہوا۔ پانچ منٹ پہلے ہمیں کہا گیا کہ آپ لوگ اپنے گھر چھوڑ دیں ورنہ آپ کو بچوں سمیت جلا دیا جائے گا۔‘
اس گاؤں کے متاثرہ خاندانوں کے لیے حکومت پنجاب کی جانب سے ٹینٹ ضرور لگائے گئے ہیں تاہم متاثرہ لوگ سرکاری امداد کا انتظار کررہے ہیں۔ لیاقت مسیح بقول متاثرہ افراد کو کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی ان کی اپنی عیسائی برادری کی جانب سے ہی کی جارہی ہے۔
اس واقعے کے اگلے روز گوجرہ میں مسلمانوں نے طیش میں آکر مبینہ قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف احتجاج کیا جو بعد میں پرتشدد شکل اختیار کرگیا۔ احتجاج کے دوران چند افراد نے فائرنگ شروع کردی اور عیسائی بستی کے تقریباً چوالیس گھروں کو نذرآتش کردیا۔ اس سانحے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سمیت آٹھ افراد کی ہلاکت ہوئی۔

جس خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہوئے اس کے ایک رکن اخلاص مسیح نے بتایا کہ لوگوں نے آگ لگانے کے لیے کیمیکل کا استعمال کیا جس میں ہمارے خاندان کی چار خواتین اور ایک بچہ ہلاک ہوئے۔
عیسائیوں کے بستی کے ساتھ ہی مسلمان اکثریتی محلہ ہے جہاں سے احتجاج کا آغاز ہوا تھا۔ محمد موسیٰ اس محلے میں دکان چلاتے ہیں اور انہوں نے اس واقعہ کی ذمہ داری عیسائیوں پر ڈالی۔ ’عیسائیوں کے تین لڑکوں نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں تین مسلمان بچے زخمی ہوگئے اور پھر واقعہ کا آغاز ہوا۔ مسلمان آبادی کو طیش میں لانے والے عیسائی تھے۔‘
انہوں نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کوریاں میں عیسائیوں نے شادی کی تقریب میں قرآن شریف کے ورق کاٹ کر اس کی بے حرمتی کی۔
مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اکرم مسیح گِل نے گوجرہ میں بی بی سی کو بتایا کہ توہین رسالت کے قانون کا سہارا لے کر مسلمانوں نے نہتے عیسائیوں پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس ضمن میں جتنے مقدمات بھی عیسائیوں کے خلاف درج ہوئے ہیں بے بنیاد ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس سانحے کی رپورٹ میں توہینِ رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اس واقعہ میں حملہ آوروں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا۔






















