’ماورائے عدالت ہلاکتیں، اجتماعی قبریں‘

پاک فوج
،تصویر کا کیپشنسوات کے کئی شہریوں نے علاقے میں اجتماعی قبریں دیکھنے کی اطلاع دی ہے: رپورٹ
وقت اشاعت

پاکستان میں سکیورٹی حکام نے مالاکنڈ آپریشن کے آغاز کے وقت فوجیوں کو عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن اب حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اسے ماورائے عدالت ہلاکتوں اور اجتماعی قبروں کے شواہد ملے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ایک تازہ بیان کے مطابق اس کے حقائق جاننے کے لیے تین روزہ دورے پر بھیجے گئے ایک وفد نے سوات میں شہری آبادی کی مشکلات کے تسلسل کی شکایت بھی کی ہے۔

ان الزامات کی سرکاری طور پر یا آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

کمیشن کے مطابق سوات کے کئی شہریوں نے علاقے میں اجتماعی قبریں دیکھنے کی اطلاع دی ہے۔ ان میں سے ایک بابوزئی تحصیل کے کوکرائے گاؤں میں اور دوسری کبل تحصیل کے دیولائی اور شاہ ڈھیری کے درمیان شامل ہیں۔ عینی شاہدین جنہوں نے تدفین دیکھی ہے کا دعویٰ ہے کہ دفنائے جانے والوں میں بعض طالبان شدت پسند بھی تھے۔

کمیشن نے اس ’قابل تشویش پیش رفت‘ کے علاوہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے ماورائے عدالت ہلاکتوں پر خوف و خدشے کا اظہار کیا ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ آپریشن کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سکیورٹی فورسز طالبان کے مرتکب مظالم سے دور رہیں۔ ’طالبان کو عوامی حمایت سے محروم کرنے کی وجہ ان کے انصاف کی بربریت تھی۔ حکومت کا لوگوں سے سلوک اعلی معیار کا ہونا چاہیے۔’

کمیشن کے خیال میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی حوصلہ شکنی اسی صورت میں ممکن ہے کہ ریاست ایک ایسا شفاف نظام متعارف کرائے جو تنازعے کے دوران اور بعد میں اس کی نگرانی کرسکے۔

مینگورہ عمارت
،تصویر کا کیپشنفوجی آپریشن سے طالبان نیٹ ورک کو بظاہر نقصان پہنچا ہے تاہم شدت پسندوں کا خطرہ بدستور موجود ہے: عاصمہ جہانگیر

حقوق انسانی کمیشن نے مقامی آبادیوں اور واپس لوٹنے والے متاثرین کی مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ کمیشن کے مطابق بڑی تعداد میں واپس لوٹنے والوں کو اپنے مکانات تباہ حالت میں ملے ہیں۔ تنظیم نے حکومت سے بنیادی شہری ڈھانچے کی جلد بحالی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر کی مطابق جاری فوجی آپریشن سے طالبان نیٹ ورک کو بظاہر نقصان پہنچا ہے تاہم شدت پسندوں کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ واپس لوٹنے والے شہریوں کے لیے سکیورٹی کی عدم دستیابی ایک مسئلہ ضرور ہے۔ ’اس علاقے میں جاری کرفیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال سو فیصد حکام کے قابو میں نہیں ہے۔ خود فوجی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ چند علاقوں سے طالبان کا خاتمہ ابھی ہونا ہے۔‘

کمیشن نے نوٹ کیا کہ علاقے کے منتخب نمائندوں میں سے کوئی بھی واپس نہیں لوٹا ہے۔ اس سے سکیورٹی کے بارے میں خدشات واضح ہوتے ہیں۔ کمیشن نے حکومت سے ان نمائندوں کو مناسب سکیورٹی فراہم کرکے واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا تاکہ لوگوں کا حوصلہ بڑھ سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ متاثرین کی واپس رضاکارانہ ہونی چاہیے۔

ہیومن رائٹس کمیشن نے سول سوسائٹی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدمے سے دوچار آبادی کی بحالی، انہیں انصاف کی فراہمی اور حقوق انسانی کی پامالی روکنے کے لیے آگے آئیں۔