پاکستان شناخت کے بحران میں

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ
،تصویر کا کیپشن’یہ تاثر غلط ہے کہ طالبان صرف پشتون ہیں‘ عائشہ صدیقہ
    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کی معروف دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی آزادی کے باسٹھ برس گزرنے کے باوجود شناخت کے بحران سے دوچار ہے۔ پاکستان میں بسنے والے لوگ اپنی شناخت کے بارے میں تاحال واضح نہیں کہ وہ پہلے پاکستانی ہیں یا بلوچ، پنجابی، سندھی، پٹھان اور مہاجر۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان سوالات کا واضح جواب نہیں ملتا پاکستان میں شناخت کا بحران برقرار رہےگا۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے یہ باتیں پاکستان کے ایک نجی تعلیمی ادارے شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یعنی زیبسٹ کی سوشل سائنس فیکلٹی میں اپنے لیکچر کے دوران کہیں۔ ان کے لیکچر کا عنوان پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات تھا۔

عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ لوگوں کے پاس تاحال واضح جواب نہیں ہے کہ وہ اگر پاکستانی ہیں تو اپنی ذیلی شناخت پر شرمندہ ہوں یا فخر کریں کیونکہ پاکستان کی حکمران اسٹیبلشمنٹ نے ہماری ذیلی شناختوں کی ہمت افزائی نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کنگ میکرز ہی اصل اور مستقل حکمران ہیں ان کا کنگ مفادات کے تحت تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کنگ میکرز میں پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور دیگر ادارے سٹیک ہولڈرز ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے مزید کہا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ دنیا کا کوئی ملک پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے۔ پاکستان کمزور ملک نہیں بلکہ جوہری اثاثوں والا ملک ہے اور کوئی اس کو کیوں توڑنا چاہےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بیرونی سےزیادہ اندرونی خطرات لاحق ہیں جن سے حکمران اسٹیبلشمنٹ آنکھیں چراتی رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صوبائی خودمختاری کی باتیں برسوں سے کی جاتی ہیں مگر صوبوں کو خود مختاری دی نہیں جاتی۔ ملک میں جمہوری حکومت قائم ہوچکی ہے مگر لوگوں کو شک ہے کہ فوجی ہمیشہ کے لیے بیرکوں میں واپس چلے گئے ہیں یا دوبارہ حکومت کرنے واپس آجائیں گے۔

لیکچر کے بعد انہوں نے شاگردوں کے سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ ہمیشہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہر چیز امریکہ کی مرضی سے تبدیل ہوتی ہے مگر تمام باتوں میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کشمیر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس پر پاکستان کا نقطہ نظر امریکہ کی مرضی سےتبدیل کیوں نہیں ہوتا،جوہری اثاثوں اور جہادیوں کے بارے میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا نقطہ نظر امریکہ کی مرضی کےمطابق کیوں تبدیل نہیں ہوتا۔ مگر کچھ چیزیں مصلحت کے تحت کی جاتی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اسٹیبلشمنٹ دیگر امور پر امریکہ کےسامنے ایسا مؤقف کیوں اختیار نہیں کرتی۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ طالبان صرف پشتون ہیں۔ طالبان میں اب دوسرے صوبوں خصوصاً جنوبی پنجاب کے ہزاروں افراد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں اگر پاکستان کے سوشلسٹ اور منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کسانوں کی تحریک کو کچلنے کے احکامات نہ دیتے تو سوات میں طالبان کی جگہ سیاسی قوت لے لیتی۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ جوکبھی سکیولر ہوا کرتا تھا اب وہاں انتہاپسند پہنچ گئے ہیں۔آئندہ پانچ برسوں میں سندھ کی سماجی صورتحال میں تبدیلی دیکھی جا سکے گے۔کیونکہ جماعت الدعوۃ جیسی جماعتیں صحرائے تھر میں مٹھی جیسے دور دراز علاقوں تک پہنچ چکی ہیں۔