’اکیس جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے‘

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے ضلع دیر بالا میں ایک اہم کمانڈر سمیت اکیس مقامی عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو ایک جرگہ کے توسط سے مقامی انتظامیہ کے حوالے کردیا ہے۔ ان عسکریت پسندوں اور دیر قومی لشکر کے مابین دو ماہ سے جھڑپیں جاری تھیں۔
دیر بالا کے ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سو اراکین پر مشتمل دیر امن جرگہ کی کئی دنوں کی کوششوں کے بعد سنیچر کے روز ڈوگ درہ کے اکیس عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو مقامی انتظامیہ کے حوالے کیا۔ ہتھیار ڈالنے والوں میں اہم شدت پسند کمانڈر موشا ، فضل حیات اور شاکر اللہ شامل ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قومی جرگہ اور عسکریت پسندوں کے مابین ایک خفیہ معاہدہ بھی طے پایا ہے جس کے تحت شدت پسند ہتھیار رکھنے پر راضی ہوئے ہیں۔تاہم معاہدے کے شرائط کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا۔
دیر بالا کے ایک مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں سے عسکریت پسندوں کی مزاحمت کمزور پڑ گئی تھی جبکہ افغان اور دیگر غیر ملکی مزاحمت کار بھی علاقہ چھوڑ کر جاچکے ہیں۔
خیال رہے کہ دو ماہ قبل دیر بالا کے علاقے حیا گئی میں ایک مسجد میں ہونے والے خودکش حملے میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مقامی لوگوں نے اس دھماکے کی ذمہ داری ڈوگ درہ میں سرگرم طالبان پر عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف قومی لشکر تشکیل دیا تھا۔ اس لشکر کو حکومت کی حمایت بھی حاصل ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے لشکر اور طالبان کے خلاف جھڑپیں جاری ہیں جن میں کئی عسکریت ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ان کے درجنوں مکانات اور مراکز کو بھی نذرآتش کیا گیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قومی لشکر نے عسکریت پسندوں کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے کر انہیں ایک پہاڑی علاقے تک محدود کردیا ہے اور دونوں فریق مورچہ زن ہیں۔ان عسکریت پسندوں میں افغان جنگجو بھی شامل ہیں۔


















