’ریاستی اداروں کی وجہ سے اخبار بند کیا‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
بلوچستان میں قوم پرست رجحان رکھنے والے ایک اخبار کی انتظامیہ نے اخبار بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ روزنامہ آساپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے مسلسل ہراساں کرنے کے واقعات کے بعد اخبار بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کوئٹہ اور تربت سے بیک وقت شائع ہونے والے روزنامہ آساپ کے منگل کے شمارے میں دفتر کے باہر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑی کی تصویر دی گئی ہے اور اس کے ساتھ آساپ نیوز واچ کے نام سے تین کالم باکس میں اخبار بند ہونے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
روزنامہ آساپ کے مدیر میر عابد نے بی بی سی کو بتایا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے جس طرح مسلسل ہراساں کیا جارہا تھا اس کے بعد انتظامیہ کا فیصلہ یہی ہے کہ اسے بند کرنا ہی بہتر ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ جب سے کوئٹہ فرنٹیر کانسٹبلری کے حوالے ہوا ہے، ایف سی نے دفتر کا محاصرہ کر رکھا ہے، آنے جانے والے لوگوں کو تنگ کیا جاتا ہے اور مختلف قسم کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ’ کسی ورکر کو نقصان پہنچے اس سے بہتر ہے کہ اخبار کو ہی بند کیا جائے‘۔
روزنامہ آساپ سے ایک سو لوگوں کا روزگار جڑا ہوا تھا۔ ماہ جنوری میں اخبار کے مالک جان محمد دشتی پر نامعلوم مسلح افراد نے جان لیوا حملہ کیا تھا جو اس وقت لندن میں زیر علاج ہیں۔
اخبار کے مدیر میر عابد کے مطابق صوبائی حکومت سے اخبار کی انتظامیہ کی جانب سے رابطہ کیا گیا اور یہ تمام صورتحال ان کے علم میں تھی مگر انہوں نے کوئی مدد نہیں کی۔ گزشتہ دو سالوں سے سرکاری اشتہارات بھی بند تھے اس کے باوجود اخبار کو چلایا جارہا تھا۔
میر عابد کا کہنا تھا کہ ان کا اخبار کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتا، جو کچھ ہو رہا تھا اور جو حقیقی صورتحال تھی اسے ہی پیش کیا جارہا تھا۔


















