جماعت اسلامی کی ریلی: ’گو امریکہ گو‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان میں امریکی سفارت خانے کی توسیع کے خلاف جماعت اسلامی نے منگل کو ’گو امریکہ گو‘ کے نام سے ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ مظاہرین نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے کی توسیع کے منصوبے کو مسترد کردے۔
جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امریکی سفارت کاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعداد ساڑھے اٹھ سو کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا سفارت کاروں کو سیکورٹی فراہم کرنا میزبان ملک کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی غیر ملکی سفارت خانے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنے سفارت خانے میں کمانڈوز کو تعینات کرے۔
سید منور حسن کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے سفارت خانے کو توسیع دے کر اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی امریکہ کی جنگ دراصل اسلامی ملکوں کے خلاف جنگ ہے اور وہ ان ملکوں کے اثاثوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جماعت اسلامی کی طرف سے ان خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سفارت خانے کے توسیعی منصوبے سے پاکستان کو کوئی خطرات لاحق نہیں ہیں اور امریکہ پاکستان کے ساتھ طویل المدت تعلقات چاہتا ہے۔ فارن سروس اکیڈمی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ امریکی سفارت خانے میں سیکنٹروں امریکی میرین تعینات کیے جائیں گے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس ضمن میں پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن سے بھی ملاقات کی تھی اور انہیں کہا تھا کہ وہ امریکی سفارت خانے کی توسیع کے بارے میں میڈیا کو تمام حقائق سے آگاہ کریں۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کی معاشی امداد میں تین گنا اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افعانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے خود کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان میں اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی لانے اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔


















