کراچی ہنگامے، مذہبی رہنما کے خلاف مقدمہ

کراچی ہنگامے
،تصویر کا کیپشنہنگاموں کے دوران متعدد گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئی تھیں
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

کراچی پولیس نے کالعدم شدت پسند تنظیم سپاہ صحابہ کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور ندیم اور ان کے تین بیٹوں سمیت دس افراد کے خلاف اقدام قتل، ہنگامہ آرائی اور غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات میں مقدمات درج کر لیے ہیں۔

پولیس کے مطابق مولانا عبدالغفور ندیم اور ان کے نو ساتھیوں کو پیر کو کراچی کے علاقے ناگن چورنگی میں واقع مسجد صدیق اکبر کی چھت پر مورچہ بند مسلح افراد کی پولیس پر فائرنگ کے بعد کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں تین افراد زخمی ہوگئے تھے جن میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر بھی شامل تھا۔

کراچی کے سرسید تھانے کے ڈیوٹی افسر فرید نے بتایا کہ ان ملزمان کے خلاف مجموعی طور پر دس مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں دو بلوے، املاک کو نذر آتش کرنے، اقدام قتل سے متعلق ہیں جبکہ مسجد سے برآمد ہونے والے غیر قانونی اسلحے سے متعلق آٹھ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کو ریمانڈ حاصل کرنے کی غرض سے عدالت میں پیش کر دیا ہے۔

پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ مولانا عبدالغفور ندیم کو بلوے، اقدام قتل سے متعلق مقدمات میں ملزم نامزد کیا گیا ہے جبکہ ان کے تین بیٹوں زوہیب، راشد اور معاویہ سمیت دوسرے ملزمان کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے سرپرست علی شیر حیدری کے قتل کے خلاف پیر کو ناگن چورنگی کے علاقے میں احتجاج کے دوران مشتعل لوگوں نےگاڑیوں کو نذر آتش کیا تھا اور پتھراؤ کرنے کے علاوہ ٹائر جلا کر کئی گھنٹے تک علاقے کی مرکزی شاہراہ کو بند کیے رکھا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق موقع پر پہنچنے والی پولیس پارٹی پر مسجد صدیق اکبر کی چھت پر مورچہ بند بعض مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی جس کے بعد رینجرز کو طلب کرلیا گیا تھا اور مسجد کے محاصرے کے دوران مشتبہ افراد کو حراست میں لےکر اسلحہ برآمد کر لیا گیا تھا۔