میڈیا فرینڈلی ترجمان

مولوی عمر
،تصویر کا کیپشنمولوی عمر دو ہزار سات میں تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مقرر ہوئے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے دوران طالبان کے متعدد ترجمانوں سے واسطہ پڑا تاہم ان میں مولوی عمر بظاہر سب سے زیادہ متحرک اور میڈیا فرینڈلی نظر آئے۔

دو ہزار سات میں تحریک طالبان پاکستان کا ترجمان مقرر ہونے کے بعد ان کا یہ معمول ہوتا تھا کہ ہر دوسرے دن رابط کرتے۔ ویسے تو وہ اکثر اوقات خودکش حملوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے فون کرتے لیکن کبھی کبھار خیر وعافیت کےلیے بھی فون کرتے۔

وہ جب بھی فون کرتے تو ان کا نمبر دیکھ کر ہم پہلے سے ہی تیار ہو جاتے کہ اب کسی حملے کی ذمہ داری قبول کریں گے یا کسی سکیورٹی اہلکار کی اغوا کی یا سر قلم کرنے کی بات کریں گے۔

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں طالبان کے حملوں میں زبردست اضافہ ہوا۔ ان دنوں وہ ہر روز فون کرتے اور ہر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے۔ اس وقت تک میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی صرف فون پر رابط رہتا تھا۔

ہر بار ایک ہی جیسے خودکش، بم حملوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے گلے کاٹنے کے واقعات کی ذمہ داری قبول کر کر کے میرے ذہن میں مولوی عمر کا ایک عجیب سا خاکہ بن گیا تھا۔

اگر کسی دن ان کی خبر نہ چلتی تو دوسرے دن فون کر کےگلہ بھی کرتے تھے۔ کئی بار تو انہوں نے دھمکیاں بھی دیں، ایک بار انہوں نے کہا کہ ’ یار آپ بی بی سی والے کچھ دنوں سے ہماری خبریں نہیں دے رہے ہیں جس پر ساتھی ناراض ہو رہے ہیں، اس سے نقصان بھی ہوسکتا ہے۔‘

ایک مرتبہ انہوں نے ہمارے پشاور بیوریو کے ایک رپورٹر سےگلہ کیا کہ وہ ہماری خبریں نہیں دیتا بلکہ ایک قسم کی دھمکی بھی دی کہ ’وہ اپنے اپ کو ٹھیک کر لے ورنہ اچھا نہیں ہوگا‘۔

مئی دو ہزار آٹھ میں جب امریکہ نے باجوڑ ایجنسی کے گاؤں ڈمہ ڈولہ کی ایک مسجد پر میزائل حملہ کیا تو میں بھی اس واقعہ کی رپورٹنگ کے لیے باجوڑ گیا اور وہاں پہلی مرتبہ مولوی عمر سے بالمشافہ ملاقات ہوئی۔

وہ ہمیں ایک گاڑی میں بیٹھا کر مولوی فقیر محمد کے گھر لے گئے جہاں ہمیں چائے بھی پلائی تاہم مولوی فقیرگھر پر موجود نہیں تھے۔

وہ مضبوط جسامت کے مالک تھے۔ ان کے ساتھ دس سے بارہ جنگجو ہر وقت موجود رہتے تھے۔ ان کے ساتھ ایک گاڑی بھی تھی جس پر ہوٹر لگا ہوا تھا۔

گزشتہ سال مولوی عمر نے پشاور کے ایک صحافی کو انٹرویو دینے کے بہانے خیبر ایجنسی بلا کر کئی دنوں تک یرغمال بنائے رکھا جس پر پشاور کے صحافیوں نے اندرون خانہ سخت احتجاج کیا۔ اس واقعہ کے بعد ان کے پشاور کے صحافیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔ اس کے بعد وہ جب بھی پشاور کے صحافیوں کو کسی پریس کانفرنس کے لیے بلاتے تو صحافی ان کے پاس جانے سے کتراتے تھے۔