’زندگی عذاب بن گئی‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
شادی کے بعد نئی نویلی دلہن سسرال اور شوہر کی آنکھ کا تارا ہوتی ہے۔ مگر پنجاب کے شہر لودھراں کی رضیہ کبریٰ کے ساتھ اس کے برعکس ہوا ہے۔
گزشتہ سال مارچ کے مہینے میں جنوبی پنجاب کے شہر لودھراں سے تعلق رکھنے والی نوبیاہتا کبریٰ اپنے خاندان کے ساتھ کراچی میں بانیِ پاکستان محمد علی جناح کا مزار گھومنے آئں تھی جہاں انہیں مبینہ طور پر تین روز یرغمال بنا کر اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے نے انہیں زندگی کی تمام خوشیوں سے محروم کردیا ہے۔
پولیس نے اس مقدمے میں مزار کے محافظوں خادم حسین، عارف انصاری اور راجہ محمد عارف کو گرفتار کیا تھا۔ یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں زیر سماعت ہے جو عدم حاضری پر رضیہ کبریٰ اور ان کے شوہر فیاض حسین کے دو مرتبہ گرفتاری کے وارنٹ جاری کرچکی ہے۔ بعد میں دونوں نے حاضر ہوکر بیانات قلمبند کروائے۔
فیاض حسین نے بی بی سی کو عدم حاضری کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب سے کراچی آنے جانے پر بہت خرچہ ہوجاتا ہے اور انہیں وقت پر اطلاع بھی نہیں دی جاتی اس لیے نہیں پہنچ سکے تھے۔
مزار ریپ کیس کے نام سے یہ واقعہ گزشتہ سال میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زیر بحث رہا اور پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے رضیہ کبریٰ کو رہائش اور پانچ لاکھ روپے بطور امداد اور ان کے شوہر کو ملازمت دینے کی سفارش کی تھی۔
فیاض حسین کے مطابق انہیں تین سال کے کانٹریکٹ پر سرکاری ملازمت مل گئی ہے مگر گھر اور پیسوں کے اعلانات پر عمل نہیں ہوسکا ہے۔
فیاض حسین نے آہ بھرتے ہوئے کہا ’ایسا لگتا ہے جیسے چاروں طرف سے کانٹوں نے گھیر کر رکھا ہے۔ ملزمان کو سزا ہوجائے تو کچھ سکون حاصل ہوگا۔‘
ان کا کہنا تھا ’شہر اور گاؤں میں فرق ہے۔ اگر گاؤں میں کسی شخص پر کوئی جھوٹا الزام بھی لگ جائے تو لوگ اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور اس کو رہنے نہیں دیتے۔ یہاں تک کہ سکون سے جینے بھی نہیں دیتے۔ میں زندگی کے دن پورے کر رہا ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیاض حسین نویں جماعت پاس ہیں اور ان کے والد فوت ہوچکے ہیں۔ صرف ماں اور ایک بہن اہل خانہ میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق وہ کسی تقریب یا دعوت میں نہیں جاتے کیونکہ گھر سے باہر نکلتے ہیں تو باتیں سننی پڑتی ہیں۔ ’اس لیے کہیں نہیں جاتا۔‘
رضیہ کبریٰ نے بھی خود کو گھر تک محدود کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پڑوس کی خواتین پریشان کرتی ہیں اس لیے وہ ان کے پاس نہیں جاتیں۔
’زندگی عذاب بن کر رہ گئی ہے اس جینے سے مرجاؤں تو بہتر ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم ان کے ساتھ نہ جاتی تو یہ واقعہ نہیں ہوتا۔ میرے والدین بھی میری بات نہیں مانتے کہتے ہیں کہ تمہیں مار دیں گے۔ وہ مجھے قصور وار سمجھتے ہیں۔ شوہر ساتھ دیتا ہے مگر کوئی اس کی بات نہیں مانتا۔‘
فیاض اور کبریٰ کے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی مگر وہ بھی اچانک فوت ہوگیا۔ کبریٰ کے مطابق ان کا بیٹا گزشتہ سال محرم کی دو تاریخ کو پیدا ہوا اور آٹھ تاریخ کو فوت ہوگیا۔ بیٹے کو کوئی بیماری بھی نہیں تھی صحت مند تھا وہ صرف آنسو بہاتی رہ گئیں۔
سندھ اسمبلی کی موجودہ ڈپٹی سپیکر شہلا رضا اس مقدمے کی پیروی کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس وقت اعلانات ہوئے تھے اس وقت پیپلز پارٹی حکومت میں نہیں تھی مگر اس کے باوجود ملازمت دینے کے اعلان پر عمل کیا گیا۔ رہائش اور معاوضے کی فراہمی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مقدمے زیر سماعت ہے اور ہمارے ملک میں جب تک کیس ثابت نہیں ہوجاتا کچھ دیا نہیں جاتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ متاثر خاندان جب بھی کراچی آتا ہے وہ انہیں رہائش اور واپسی کا کرایہ فراہم کرتی ہیں ۔ ان کی کوشش ہے کہ اس مقدمے کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے اس ضمن میں مشورہ کیا جا رہا ہے۔






















