’قاسمانی کو ہراساں نہ کیا جائے‘

- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
سندھ ہائی کورٹ نے صوبہ سندھ کے محکمہ داخلہ اور پولیس کو کراچی کے ایک تاجر محمد عارف قاسمانی کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت کی ہے جن کے اثاثے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے القاعدہ سے تعلق رکھنے کے جرم میں منجمد کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔
عدالت نے یہ حکم ینسٹھ سالہ عارف قاسمانی کی جانب سے داخل کی گئی درخواست پر جاری کیا ہے۔
عارف قاسمانی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی نے اس سال 29 جون کو دہشتگرد افراد اور تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی اور ان کے اثاثے منجمد کرنے اور ان کے بین الاقوامی سفر اور ہتھیار رکھنے پر پابندی لگانے کا حکم دیا تھا۔ بعد میں امریکہ نے بھی دو جولائی کو ان کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔
تاہم حکومت پاکستان نے ان پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے۔
درخواست میں صوبائی سیکریٹری داخلہ اور کراچی پولیس کے سربراہ سمیت دوسرے متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے اور پولیس پر درخواست گذار اور ان کے اہل خانہ کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
ہائی کورٹ کے جج جسٹس فیصل عرب نے حکم جاری کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کئے ہیں اور انہیں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اپنے مختصر حکم میں عدالت نے محکمہ داخلہ اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں جو درخواست گذار کے لئے خوف و ہراس یا ذہنی اذیت کا باعث بنے۔
عارف قاسمانی کے وکیل نہال ہاشمی کے مطابق درخواست گذار کا مؤقف ہے کہ پولیس کی اسپیشل برانچ کے کچھ اہلکار مسلسل ان کے گھر کی نگرانی کررہے ہیں اور ان کے نوکروں، بچوں اور پڑوسیوں کو بھی ہراساں کررہے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ درخواست میں فریق بنائے گئے حکام کو ہدایت کرے کہ وہ انہیں ہراساں کرنا بند کریں۔
سلامتی کونسل کی کمیٹی کے اعلامیے میں الزام لگایا گیا ہے کہ عارف قاسمانی کالعدم جہادی تنظیم لشکر طیبہ کے چیف کوآرڈینیٹر ہیں اور تنظیم کی دہشتگرد کارروائیوں کے لئے وسائل فراہم کرتے ہیں۔ اعلامیے میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ قاسمانی نے بھارت کے شہر ممبئی میں جولائی دو ہزار چھ میں ٹرینوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں مدد فراہم کی تھی جبکہ وہ لشکر طیبہ کے لیے فنڈز جمع کرنے کے علاوہ القاعدہ کی بھی مالی امداد کرتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ان کے وکیل نہال ہاشمی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ’جس طرح سے ہر پاکستانی مجاہدین کا احترام کرتا ہے اسی طرح وہ بھی ان کا احترام کرتے رہے اور کسی زمانے میں جماعت الدعوۃ والوں کے ساتھ ان کے رشتے ضرور رہے ہوں گے لیکن اب ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
سلامتی کونسل کی کمیٹی کے مطابق وہ عارف عمر، قاسمانی بابا، میمن بابا، اور بابا جی کے ناموں سے بھی جانے جاتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عارف قاسمانی نومبر 2005ء میں اغواء ہوگئے تھے۔ ان کی بازیابی کے لیے ان کی اہلیہ جویریہ قاسمانی نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست داخل کرکے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا ہے۔ فروری 2007ء میں انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔






















