باجوڑ کا عطار

مولوی عمر
،تصویر کا کیپشنمولوی عمر کو مہمند ایجنسی سے گرفتار کیا گیا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں امن کمیٹی کے رضاکاروں کی طرف سے حراست میں لئے جانے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر کا شمار باجوڑ ایجنسی کے اہم طالبان رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

مولوی عمر کا اصل نام سید محمد بتایا جاتا ہے تاہم وہ مولوی عمر کو ’جہادی‘ نام کے طورپر استعمال کرتے تھے۔ وہ ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز اس وقت بنے جب دوہزار سات میں تحریک طالبان پاکستان کے قیام کے بعد انہیں تحریک کا مرکزی ترجمان مقرر کیا گیا۔ وہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے موبائل یا وائرلیس فون کے ذریعے سے رابط کرکے انہیں اپنا موقف بیان کرتے تھے۔ ان کے ذرائع ابلاغ کے نمائندؤں سے اچھے مراسم بھی تھے۔ تاہم گزشتہ سال جب باجوڑ ایجنسی میں سیکیورٹی فورسز کی طرف سے آپریشن شروع کیا گیا تو مولوی عمر روپوش ہوگئے تھے۔ اس کے بعد وہ کبھی کھبار صحافیوں سے رابطے کرتے تھے۔

مولوی عمر کا تعلق باجوڑایجنسی کے وڑہ ماموند کے گاؤں بادان سے ہے، وہ بڑوزئی قبیلے سے بتائے جاتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ مولوی عمر نے ثانوی تعلیم حاصل کی ہے تاہم قبائلی پشتون ہونے کے باوجود وہ اردو زبان روانی سے بولتے تھے۔ انہوں نے کوئی باقاعدہ دینی تعلیم بھی حاصل نہیں کی تھی۔ انہوں نے مردان اور ترخو باجوڑ میں قائم مدرسوں میں ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔

نوے کے عشرے میں جب مولانا صوفی محمد نے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام کےلیے مسلح تحریک کا آغاز کیا تو مولوی فقیر محمد کے ہمراہ انہوں نے بھی اس تحریک میں شمولیت اختیار کرلی۔ وہ مولوی فقیر محمد کے قریبی ساتھی بتائے جاتے ہیں۔

بیت اللہ محسود
،تصویر کا کیپشنبیت اللہ محسود تصویر بنوانے کےخلاف ہیں

باجوڑ کے مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ ٹی این ایس ایم میں آنے سے پہلے مولوی عمر باجوڑ میں عطر فروخت کرتے تھے۔

دو ہزار ایک کے آخر میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو کئی عرب جنگجوؤں نے باجوڑ ایجنسی میں پناہ لی جس میں مولوی عمر نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کے عرب جنگجوؤں سے بھی مضبوط مراسم تھے۔

مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ مولوی عمر نے اپنی دو بیٹیوں کی شادیاں عرب جنگجووں سے کرائی تھیں جن میں ایک جنگجو بعد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

باجوڑ ایجنسی میں امریکی میزائل حملوں اور سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران تقریباً تین بار مولوی عمر کی ہلاکت کی افواہیں بھی پھیل چکی ہیں۔ اس سال مارچ میں سیکیورٹی فورسز نے بادان میں ہونے والے ایک حملے میں مولوی عمر کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا۔

دو ہزار چھ میں پہلی بار جب امریکہ نے باجوڑ میں ایک گھر کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا تو مولوی عمر اس حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔ مولوی عمر نے خود باجوڑ میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس حملے میں اس کے ساتھ وہاں موجود زیادہ تر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے اس حملے میں کئی عرب جنگجو بھی مارے گئے تھے۔

مولوی عمر نے دو شادیاں کررکھی ہیں۔ دوسری شادی انہوں نے حال ہی میں کی ہے۔

ان کی کوئی نریینہ اولاد نہیں ہے۔

چند ہفتے قبل جب بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی افواہ پھیلی تو مولوی عمر نے خود ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطے کرکے طالبان سربراہ کی ہلاکت کی تردید کی۔

بی بی سی کے ایک سوال پر انہوں نے کہا تھا کہ تحریک کے نئے امیر کی جب بھی ضروت پڑی گی تو طالبان کا نمائندہ شوری مشورے سے نیا امیر مقرر کر ےگی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’صرف وزیرستان طالبان تحریک طالبان کا حصہ نہیں بلکہ تمام قبائلی علاقوں کے طالبان اس تحریک کا حصہ ہیں۔

’مولوی عمر کی باتوں سے بظاہر لگ رہا تھا کہ وہ وزیرستان طالبان کی طرف سے میڈیا کو جاری ہونے والے بیانات سے خوش نہیں ہیں۔‘

اس کے چند دنوں بعد وزیرستان طالبان کی جانب سے اعظم طارق کے نام سے ایک اور ترجمان مقرر کیا گیا۔ تاہم یہ بتایا گیا کہ وہ نیا ترجمان صرف وزیرستان میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کرےگا۔