دل تو چاہتا ہے لیکن۔۔۔

افغان انتخابات
،تصویر کا کیپشن2004 کے انتخابات میں پاکستان میں آباد افغان پناہ گزینوں کے لیے پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان میں مقیم تقریباً آٹھ لاکھ کے لگ بھگ افغان پناہ گزین اس مرتبہ افغانستان کے انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ حصہ نہ لینے کی بنیادی وجوہات امن و امان کی صورتحال اور پناہ گزینوں کے پاس وسائل کی کمی ہے۔

اس مرتبہ پاکستان میں آباد افغان پناہ گزینوں کے لیے افغانستان کی حکومت یا بین الاقوامی تنظیموں نے کوئی ایسے اقدامات نہیں کیے ہیں کہ وہ جمعرات کے روز ہونے والے افغان انتخابات میں حصہ لے سکیں۔

پاکستان میں کوئی سترہ لاکھ رجسٹرڈ افغان شہری رہائش پذیر ہیں جن میں غیر سرکاری بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق پینتالیس فیصد افراد حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پچیس سے تیس لاکھ اور ایران میں دس سے پندرہ لاکھ افغان پناہ گزین آباد ہیں۔

اسلام آباد میں افغانستان کے سفارتخانے میں موجود ایک عہدیدار مجنون گلاب نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بین الاقوامی امدادی اداروں نے اس مرتبہ کوئی امداد فراہم نہیں کی ہے تاکہ ان دونوں ممالک میں موجود افغان پناہ گزین حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ چونکہ پاکستان میں بیشتر پناہ گزین صوبہ سرحد میں آباد ہیں اور ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اس لیے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بھی ان پناہ گزینوں کے لیے پاکستان میں کوئی پولنگ سٹیشن قائم نہیں کیے گئے ہیں۔

پشاور کے کارخانو بازار اور بورڈ کے علاقے میں آباد افغان پناہ گزینوں سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ وہ انتہائی غریب ہیں اور دو وقت کی روٹی مشکل سے کماتے ہیں تو ایسی صورتحال میں کون اتنا خرچ کر کے افغانستان جائے اور ووٹ ڈالے۔

شاہد افغان شہری
،تصویر کا کیپشنخواہش ہے کہ انتخابات میں حصہ لیں اور حامد کرزئی کو ووٹ دیں لیکن وہاں حالات خراب ہیں:شاہد

ان افغان پناہ گزینوں کے مطابق افغانستان میں طالبان کے حملوں اور دھمکیوں کی وجہ سے لوگ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔

پشاور میں بورڈ کے علاقے میں ایک میڈیکل سٹور پر موجود افغان تاجر شمس الدین نے بتایا ہے کہ ان کے گھرانے کے ایک سو ووٹ ہیں لیکن ان کے پاس نہ تو اتنے وسائل ہیں کہ وہ افغانستان جائیں اور نہ ہی امن و امان کی صورتحال انہیں اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنا ووٹ استعمال کریں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے ان کے رشتہ دار اطلاعات فراہم کرتے رہتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ آج یعنی بدھ کی صبح بھی طالبان اور سرکاری فوجیوں کے مابین کابل میں جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں ہلاکتوں کی اطلاع بھی ہے۔

چٹائیاں اور پرانے برتن فروخت کرنے والے ایک تاجر نے کہا کہ اس مرتبہ افغانستان حکومت نے یہاں پاکستان میں ان کے لیے کوئی انتظامات نہیں کیے ہیں کہ وہ ووٹ ڈال سکیں حالانکہ ان کا دل بہت چاہتا ہے کہ اپنے من پسند امیدواروں کو ووٹ ڈال سکیں۔

کارخانوں مارکیٹ کے قریب پاک افغان بس ٹرمینل کے مینیجر محمد ابراہیم نے بتایا ہے کہ ان کی گاڑیاں تو افغانستان کے شہر جلال آباد تک جا رہی ہیں لیکن مسافروں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج صبح صرف ایک گاڑی کسی افغان امیدوار کے رشتہ دار لے گئے ہیں جو ووٹ ڈالنے کے لیے جلال آباد گئے ہیں اور ان کی تعداد چالیس سے زیادہ نہیں تھی۔اسی طرح اس ٹرمینل کے قریب چھوٹی بسوں کے اڈے پر بھی کوئی مسافر ایسا نہیں تھا جو خاص طور پر انتخابات میں حصہ لینے جا رہا ہو۔

اس اڈے پر موجود شاہد نامی ایک افغان نے بتایا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ انتخابات میں حصہ لیں اور حامد کرزئی کو ووٹ دیں لیکن ان کی اطلاع کے مطابق افغانستان سے لوگ واپس پاکستان آ رہے ہیں اور خطرہ ہے کہ ان انتخابات میں افغانستان کے حالات مذید خراب ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے سنہ دو ہزار چار کے انتخابات میں پاکستان میں آباد افغان پناہ گزینوں کے لیے پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد میں پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے جن میں افغان پناہ گزینوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔