بیت اللہ کہاں ہیں؟

بیت اللہ
،تصویر کا کیپشن’بیت اللہ بیمار ہیں لہٰذہ روپوش ہیں‘ مولانا فقیر
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بارے میں دو ہفتے گزرنے کے باوجود صورتحال یہ ہے کہ طالبان کے سوا تقریبًا ہر کوئی اسے تسلیم کرچکا ہے کہ وہ اب نہیں رہے جبکہ طالبان کا موقف ہے کہ ہلاکت کی افواہ ان کے رہنما کو پھنسانے کی ایک چال ہے۔

حکام اور حکومت کے درمیان بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق بظاہر ایک تعطل کا شکار ہے۔ امریکی اور پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ وہ ہلاک ہوچکے ہیں لیکن اس خبر کی سو فیصد تصدیق سے دو ہفتوں سے کترا رہے ہیں۔

حتمی تصدیق میں آڑے حکام کے پاس بظاہر ٹھوس ثبوت کی کمی ہے۔ وہ نہ تو لاش دیکھ سکے ہیں اور نہ ہی اب تک ڈی این اے نمونہ حاصل کر سکے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں حکومت کے زمینی ذرائع یا خفیہ اداروں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

دوسری جانب طالبان کے تین اہم رہنماؤں نے صحافیوں سے بات کر کے ہلاکت کی تردید کی ہے اور آج تک تسلسل سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں مرکزی ترجمان مولوی عمر بھی شامل تھے تاہم اب سرحد حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے دوران حراست بیت اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اس سے تمام صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ تحریک طالبان کے وزیرستان میں ترجمان اعظم طارق کا کہنا ہے کہ ان کی شوریٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ ان کا چونکہ مقابلہ ایک مکار دشمن سے ہے لہذا وہ ان کی جانب سے تردید کی کوشش کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ان سے دریافت کیا کہ آخر ویڈیو جاری کرنے میں کیا چیز مانع ہے تو ان کا کہنا تھاکہ ’ہمارا مقابلہ بڑے مکار دشمن سے ہے۔ رحمان ملک جو غلامی کا طوق گلے میں ڈالتا ہے ہم اس کے چیلنج کو چیلنج ہی قبول نہیں کرتے۔ وقت آنے پر بتاؤں گا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔‘

لیکن باجوڑ میں طالبان قیادت کے اہم رکن مولانا فقیر محمد کی جانب سے اپنے آپ کو قائم مقام امیر مقرر کرنے کے اعلان سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ ان کے مطابق بیت اللہ بیمار ہیں لہٰذا روپوش ہیں حالانکہ بیماری کی حالت میں بھی وہ وقتًا فوقتًا میڈیا سے رابطہ کرتے رہے ہیں۔

سینئر صحافی اور تـجزیہ نگار اقبال خٹک کا ماننا ہے کہ بیت اللہ کے زندہ ہونے کے ثبوت کے ساتھ سامنے آنے میں تاخیر سے طالبان کی ساکھ کو نقصان پہنچتا رہے گا۔ ’پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہ نقصان ناقابل تلافی ہوجائے گا۔ اگر یہ واقعہ ہوا ہے تو انہیں اسی دن اسے تسلیم کرلینا چاہیے تھا۔ عوام میں ان کی حمایت ویسے ہی اب وہ نہیں رہی جو صدر مشرف کے دور میں تھی۔ ان کے روابط آئی ایس پی آر سے ماضی میں بہتر تھے اور اکثر صحافی ان کی بات پر زیادہ اعتبار کرتے تھے لیکن اب شاید ایسا نہ ہو۔‘

طالبان کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مؤقف کے دفاع میں مزید مشکل پیش آسکتی ہے۔ ان پر دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ انہیں یا تو ویڈیو جاری کرنا ہوگی ورنہ ہلاکت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ان کا انکار کوئی زیادہ دن نہیں چل پائے گا۔