’طالبان کی پشت پناہی نہ کی جاتی تو ان کا صفایا کر دیتے‘

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں پچھلے کئی سالوں سے جاری تشدد کی لہر نے نہ صرف لوگوں کے ذہنوں میں ملک کی ’سلامتی‘ کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں بلکہ اس کی کھوکھ سے جنم لینے والے المیے متاثرہ افراد کی زندگیوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نتھی ہو چکے ہیں۔ طالبان اور سکیورٹی فورسز کے مابین جاری لڑائی سے جنم لینے والے انسانی المیوں کے مختلف پہلووں کو صحافت کے تنگ دامن میں یا تو سرے سے جگہ ہی نہیں مل سکی اور اگر ملی بھی تو اس طرح نہیں جس طرح سے یہ واقعات رونما ہوئے اور یوں حقیقی کہانیاں صحافتی مقابلے کی دوڑ کے ملبے میں کہیں دفن ہوگئیں۔
پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ جنگ زدہ افراد یا خاندانوں پر بیتی ہوئی انہی کہانیوں کی کھوج میں ہیں جنہیں بی بی سی اردو ڈاٹ کام ایک سیریز کی صورت میں شائع کر رہی ہے۔ اس سلسلے کی دوسری کہانی۔
<link type="page"><caption> جنگ کہانی: پہلی قسط</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090813_war_stories_1_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
اکرام اللہ (فرضی نام)، گوالیرئی، تحصیل مٹہ، سوات
’’یہ چھبیس اکتوبر دو ہزار آٹھ کی صبح کا واقعہ ہے۔ گوالیرئی گاؤں کی مسجد میں ستر کے قریب مقامی قبائلی رہنما طالبان کے نمائندے ملا شمشیر کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اکھٹے ہوئے تھے۔ مذاکرات کے دوران یہ طے پایا کہ طالبان آئندہ گاؤں میں داخل نہیں ہونگے البتہ انہیں سڑک پر سے گزرنے کی اجازت ہوگی اور مشران نے طالبان کی یہ شرط مان لی کہ وہ فوج سے ملاقات کرکے انہیں گاؤں میں آنے سے منع کریں گے۔ قرآن مجید کو گواہ بنا کر درمیان میں رکھا گیا اور ملا شمشیر نے آخری دعا کردی۔
دعا کے بعد ملا شمشیر باہر نکل گئے اور مشران فوجی حکام سے مذاکرات کا طریقہ کار طے کرنے میں مصروف ہوگئے کہ چند منٹوں کے بعد ملا شمشیر مسجد میں دوبارہ داخل ہوئے اور کہا کہ ’امیر صاحب آگئے ہیں وہ تم لوگوں سے کچھ کہنا چاہ رہا ہے‘۔ تھوڑی دیر بعد ابنِ یامین، خوگ، غزنوی نامی طالبان کمانڈر اپنے تیس کے قریب ساتھیوں کے ہمرا جوتوں کے ساتھ ہی مسجد میں داخل ہوگئے۔
ان کے پاس کلاشنکوفیں، جی تھری بندوقیں تھیں اور انہوں نے اپنے جسموں کے ساتھ گرینیڈ اور دیگردھماکہ خیز مواد باندھ رکھا تھا۔ ابن یامین نے داخل ہوتے ہی اپنے ایک رشتہ دار ایوب سپین دادا پر کلاشنکوف کا برسٹ چلا دیا۔اس کے ساتھ ہی طالبان نے جرگے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ گولیوں کے شور میں کسی کی بھی آواز سنائی نہیں دے رہے تھی۔ جب فائرنگ میں کمی آئی تو میں نے دیکھا کوئی کراہ رہا ہے، کوئی مردہ حالت میں، کوئی مسجد کے ستون کے پیچھے چھپا اور بعض لوگ کسی کونے میں گھٹڑیوں کی صورت میں بیھٹے ہوئے ہیں۔اس موقع پر پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔طالبان نے باقی لوگوں پر بندوقیں تان کر انہیں یر غمال بنایا۔
انہوں نے سپین دادا کے چھوٹے بھائی بہر مند خان کو قتل کرنے کے بعد پاؤں سے پکڑ کر باہر مسجد کی صحن میں پھینک دیا اور ان کے دوسرے بھائی بر کمال کو ابنِ یامین نے زندہ پکڑ کر ان سے کہا کہ ’وہ تم ہی تھے جس نے مجھے دھمکی دی تھی کہ میں تمھاری آنکھیں نکال دونگا‘۔ یہ کہنے کے بعد اس نے بر کمال کی آنکھوں پر کلاشنکوف کی نال رکھی اور دو برسٹ مار دیے۔
اس کے بعد طالبان نے اندر آکر ایوب سپین داد اور ایک اور قبائلی رہنما کی لاش اٹھائی اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر انہیں باہر ایک درخت پر لٹکادیا۔ابھی ہم ساٹھ سے زائد لوگ اندر ہی یرغمال تھے کہ باہر سے شدید فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں۔ ہمیں ڈر لگا کہ کہیں گاؤں والوں نے ہماری مدد کے لیے طالبان پر حملہ نہ کردیاہو۔ ہمیں خوف تھا کہیں طالبان ہم سب کو مار نہ دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ سلسلہ دس سے ایک بجے تک جاری رہا۔ اس کے بعد طالبان ساٹھ سے زائد یر غمالی مشران کو اپنے ہمراہ لے گئے اور ہمیں گاؤں سے تقریباً دو کلومیٹر دور اغل نامی پہاڑی علاقے کی طرف لے گئے۔ وہاں پر ہمیں ایک سکول میں رکھا گیا۔ وہ ہر وقت ہمیں مارتے تھے۔ خوفزدہ کرنے کے لیے ہمارے سامنے چھریاں تیز کرتے اور آ کر کہتے آج اس کو اور کل فلاں کو ذبح کرنے کی باری ہے۔
دو دن بعد انہوں نے ہم میں سے دو مشران کوگولیاں ماردیں اور انہیں باہر بجلی کے کھمبوں پر لٹکادیا۔ بعد میں انہوں نے تین یرغمالی مشران کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ گاؤں کے لوگوں کو طالبان سے راضی نامہ کرنے پر قائل کریں۔ مشران نے گاؤں جا کر لوگوں کے سامنے دامن پھیلا پھیلا کر انہیں طالبان سے صلح کرنے پر راضی کرا لیا۔
اس کے بعد ہمیں چھوڑ دیا گیا۔ گاؤں میں جو دس سے زائد لوگ طالبان کو مطلوب تھے ان پر ایک ایک لاکھ روپے یا ایک کلاشنکوف دینے کا جرمانہ عائد کیا گیا جو انہوں نے بعد میں ادا بھی کر دیا۔ جب ہم واپس آئے توگاؤں والوں نے بتایا کہ پہلے دن جب وہ جاں بحق ہونے والے افراد کو دفنانے میں مصروف تھے کہ فوجی ہیلی کاپٹروں نے آکر فائرنگ کی جس میں تین افراد زخمی ہوگئے۔ جو لوگ باقی میتوں کو غسل دینے میں مصروف تھے وہ بھی بھاگ گئے۔
ہمارے گاؤں کے قریب پیر سمیع اللہ کا گاؤں ہے۔ وہاں پر جب لوگوں کو پتہ چلا کہ گوالیرئی پر طالبان نے حملہ کردیا تو انہوں نے لشکر بنایا اور ہماری طرف روانہ ہوگئے لیکن جب انہوں نے گاؤں پر ہیلی کاپٹروں کو شیلنگ کرتے دیکھا تو وہ واپس لوٹ گئے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری فوج اور خفیہ ادارے طالبان کی پشت پناہی نہ کرتے تو ہم سوات کے لوگ ان مٹھی بھر افراد کا صفایا کردیتے۔‘‘






















