ق لیگ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی

حامد ناصر چٹھہ
،تصویر کا کیپشنحامد ناصر چٹھہ کی قیادت میں نئی قیادت کا انتخاب کیا گیا ہے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ق) جمعرات کو باضابطہ طور پر دو حصوں میں بٹ گئی ہے اور حامد ناصر چٹھہ کی قیادت میں قائم ناراض ہم خیال گروپ نے ایک اجلاس میں نئی قیادت کا انتخاب کیا ہے۔

جنرل کونسل اجلاس میں چوہدری شجاعت حسین کے انتخاب کو نامنظور کرتے ہوئے، حامد ناصر چٹھہ کو عبوری چیئرمین، سلیم سیف اللہ خان کو عبوری صدر اور ہمایوں اختر خان کو عبوری سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے۔

نئی جماعت میں سابق حکمراں مسلم لیگ (ق) کے خورشید محمود قصوری اور گوہر ایوب جیسے اکثر اہم ارکان شامل ہیں۔

اجلاس میں نئی جماعت کے کارکنوں سے خطاب میں سلیم سیف اللہ کا کہنا تھا کہ ان کا چوہدری برادران کے ساتھ اختلاف جماعت کو آئینی اور قانونی طور پر چلانے پر تھا، عہدوں پر نہیں تھا۔ ’چار پانچ برسوں سے جس طرح پارٹی چلائی جا رہی تھی وہ نہ آئینی تھا اور نہ قانونی طریقہ تھا‘۔

انہوں نے پیشکش کی کہ وہ اور چوہدری برداران دونوں مستعفی ہو جاتے ہیں تاکہ مل کر نئی قیادت جمہوری طریقے سے منتخب کی جاسکے اور جماعت مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا ’چوہدری صاحب آپ نے تو سات سال صدارت کی اور میں نے ایک گھنٹہ، آئیں مل کر استعفی دیں۔ کوئی شخص دو مرتبہ سے زیادہ پارٹی صدر منتخب نہیں ہوسکتا لہذا جب آپ جماعت کے آئین کا احترام نہیں کر سکے تو ملکی آئین کا کیا کریں گے‘۔

نئی جماعت میں انتخابات کے لیے قائم سٹینڈنگ کمیٹی کے سربراہ خورشید محمود قصوری نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ یہ پارٹی سرداروں، چوہدریوں، وڈیروں کی نہیں بلکہ عوام کی پارٹی ہے۔

ہمایوں اختر نے اس موقع پر عوام سے لال مسجد اور عدلیہ کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات پر عوام سے معافی مانگی۔’ہمارے دور اقتدار میں ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ آج جب یہ ہاتھ کھلے ہیں تو ہم ہاتھ جوڑ کر قوم سے معافی کے طلبگار ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ جاکر بلوچ بھائیوں کے گھٹنے پکڑیں گے اور ان سے بھی معافی مانگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو بھی پنجاب سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ سے صدر کا انتخاب ایک اچھی سیاسی ابتداء ہے۔

مسلم لیگ (ق) میں گزشتہ ماہ مرکزی قیادت کے انتخابات کے انعقاد کے موقع پر شدید اختلافات سامنے آئے تھے۔ مسلم لیگ (ق) کے سینٹ میں رہنما کامل آغا کا اس نئی قیادت کے انتخاب پر اپنے ردعمل میں کہنا تھا کہ یہ ہم خیال نہیں بلکہ خام خیال گروپ ہے۔ ’یہ نہ تو ہماری جماعت کا اجلاس تھا نہ کسی گروپ کا، یہ تو جونیجو لیگ کی بحالی تھی‘۔