پاکستان کے لیے بہتر کون؟

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
کہتے ہیں افغانستان کا مستقبل وہاں کی عوام نہیں بلکہ ہمسایہ ممالک طے کرتے ہیں اور اب تو سات سمندر پار بیٹھا امریکہ بھی اس عمل میں شریک ہے۔ ایسے میں یہ ہمسایہ ممالک ان عام انتخابات سے کیسے نتائج کے خواہاں ہیں؟ ظاہر ہے ہر کوئی اپنی پسند کے امیدوار کی جس کا ان کا جانب جھکاؤ ہو کامیابی کی کوشش اور امید کر رہے ہیں۔ وہ جو ان کے مفادات کا افغانستان میں مناسب تحفظ یقینی بناسکے۔
<span><link type="page"><caption> افغانستان: الیکشن سکیورٹی نقشہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/05/090504_taleban_map.shtml" platform="highweb"/></link></span>
جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو دستیاب امیدواروں میں کوئی بھی سو فیصد اس کے اعتماد کا نہیں ہے۔ ایسے میں حامد کرزئی ہی بظاہر سب سے زیادہ مناسب رہنما دکھائی دیتے ہیں جو پاکستان کے جانے پہچانے اور پرکھے ہوئے ہیں۔ انہیں اس وقت ’سیف بیٹ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ آزاد اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں ایسے نتائج کی امید کر رہے ہیں جو نہ صرف افغان عوام بلکہ بین الاقوامی برداری کو بھی قابل قبول ہوں۔
حامد کرزئی وہی ہیں جنہوں نے ایک زمانے میں پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے فوجی بھیجنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ لیکن یہ سابق صدر پرویز مشرف کا دور تھا جب دونوں ہمسایہ ممالک کی حکومتوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔ دونوں رہنما ایک دوسرے کی شکل بھی شاید نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ امریکیوں کو تو کبھی ترکی کو درمیان میں پڑ کر دونوں کو ہاتھ ملانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
لیکن پھر فروری دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی سرد مہری میں قدرے گرمی آنا شروع ہوئی۔ نئی پاکستانی حکومت نے کرزئی کو نئے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا جو انہوں نے قبول کر لی۔
اس کے بعد دونوں صدور امریکی ایماء پر وقتاً فوقتاً ملتے رہے ہیں اور اب وہ تلخ بیانات کی جنگ بند ہوگئی ہے۔ مبصرین کے خیال میں کرزئی کی کامیابی سے تعلقات میں مزید بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔

کچھ لوگوں کے مطابق صدر کرزئی کے رویے میں تبدیلی کی ایک وجہ انہیں اس بات کا احساس ہونا ہے کہ پاکستان خود شدت پسندی کے دیمک کا شدید شکار ہے۔ اب انہوں نے پاکستان کے لیے ’ کچھ کرنے‘ کا راگ الاپنا چھوڑ دیا ہے۔ طالبان سربراہ کی کوئٹہ میں موجودگی کی بار بار اطلاع دینا بھی انہوں نے بند کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حامد کرزئی کی ایک اور حالیہ تبدیلی بھی پاکستان کو ضرور لبھا رہی ہے۔ وہ ان کی طالبان کے ساتھ مذاکرات پر ان کی بظاہر آمادگی ہے۔ پاکستان کئی برسوں سے اس فلسفے کی ترویج کرتا چلا آ رہا ہے کہ طالبان سے بات کرنے سے ہی مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔
لیکن یہاں تک تو سب اچھا ہے اس سے آگے نہیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو کرزئی سے سب سے زیادہ تکلیف ان کے بھارت سے قریبی تعلقات سے ہوتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ ان کا جھکاؤ دلی کی جانب زیادہ ہے۔ کرزئی کی جانب سے چار ہزار بھارتی کارکنوں کو ان کے ملک میں کام کرنے کی اجازت دینے اور بلوچ مزاحمت کارروں کی مدد سے بھی پاکستان کو تکلیف ہے۔
پھر امریکہ تو بعض لوگوں کے مطابق ان کا ’اصل آقا‘ ہے ہی۔ ایسے میں پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا عدم تحفظ کا احساس دوگنا ہوجاتا ہے۔
پاکستانی سکیورٹی ادارے تو کرزئی کی جانب کوئی زیادہ گرمجوشی نہیں دکھاتے لیکن باقی دو امیدوار بھی کوئی زیادہ پاکستان دوست نظر نہیں آتے بلکہ وہ زیادہ مخالف مانے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ پاکستان مخالف شمالی اتحاد کا حصہ رہے ہیں۔ اس اتحاد کو بھارت کی مدد حاصل رہی ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹر اشرف غنی اپنے دو سال کے بطور وزیر خزانہ پاکستان کے شدید ترین ناقدین میں سے ایک تھے۔ وہ پھر دیکھے بھالے بھی نہیں۔ وہ صدر منتخب ہونے پر کیا پالیسی اختیار کریں گے اس بات کا بھی خدشہ ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے متوقع غیر جانبدارانہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کا کوئی ’محبوب‘ امیداوار نہیں ہے۔ لیکن اندر ہی اندر احساس ہے کہ اگلے چار برسوں کے لیے ان کا واسطہ حامد کرزئی سے ہی ہوگا۔ افغانستان میں بدامنی کا منفی اثر پہلے ہی پاکستان پر پڑ رہا ہے۔ اگر انتخابات کے نتیجے میں سیاسی عدام استحکام پاکستان کے لیے مزید مشکلات کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔






















