ڈرون حملے میں بارہ ہلاک

- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان
- وقت اشاعت
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مبینہ امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں دو خواتین اور پانچ بچوں سمیت کم سے کم بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولٹیکل حکام نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کو بتایا ہے کہ جمعہ کی صبح تین بج کر پچاس منٹ کے قریب ڈرون طیاروں نے میرانشاہ سے دو کلومیٹر دور ڈانڈے درپہ خیل نامی علاقے کو حملے کا نشانہ بنایا۔
ان کے بقول دو میزائل ایک افغان شہری مرزا خان کے مکان پر داغے گئے ہیں جس میں کم سے کم بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور پانچ بجے بھی شامل ہیں۔ البتہ بقول ان کے باقی پانچ افراد کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ غیر ملکی یا افغان جنگجو ہیں۔
جس مکان کو نشانہ بنایا گیا ہے اس کے قریب طالبان کمانڈر جلا ل الدین حقانی کا مدرسہ بھی واقع ہے۔ اس سے قبل بھی ان کے زیر اثر علاقے میں کئی بار امریکی جاسوسی طیاروں سے حملے کیے گئے ہیں۔ مذکورہ علاقے میں افغان مہاجر آباد ہیں اور حکام کو شک ہے کہ یہاں سرحد پار افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج پر حملے کرنے والے جنگجو پناہ لیتے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق اس حملے کے بعد طالبان نے ڈانڈے درپہ خیل کے قریب فوجی چیک پوسٹ امین پر حملہ کیا اور اطلاعات کے مطابق دو گھنٹوں تک شدید جھڑپیں جاری رہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ کے نتیجے میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہحں۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں بالخصوص جنوبی و شمالی وزیرستان پر مبینہ امریکی جاسوسی طیاروں کے حملوں کا سلسلہ سنہ دو ہزار چار سے جاری ہے جس میں اب تک القاعدہ اور مقامی طالبان کے کئی اہم رہنماؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔دو ہفتے قبل بھی اسی قسم کے ایک حملے میں طالبان سربراہ بیت اللہ محسود کے ہلاکت کا دعوی کیا گیا تھا جسے طالبان تاحال مسترد کر رہے ہیں۔


















