واشنگٹن:زیرِحراست پاکستانی صحافی رہا

رحمان بنیری
،تصویر کا کیپشنرحمٰن بنیری پاکستان میں وی او اے اور خیبر ٹی وی کے نمائندے تھے
    • مصنف, جاوید سومرو
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
  • وقت اشاعت

امریکی امیگریشن حکام نے امریکہ آمد پر حراست میں لیے جانے والے پاکستانی صحافی کو دس روز بعد رہا کر دیا ہے تاہم انہیں امریکہ میں رہنے کی اجازت دینے یا دینے کے بارے میں فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کے لیے پاکستان سے کام کرنے والے ایک صحافی رحمٰن بنیری کو واشنگٹن کے ڈیلس ائرپورٹ پرگرفتار کیا گیا تھا۔

رحمٰن بنیری کو وائس آف امریکہ کی پشتو سروس کے لیے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں صورتحال کی رپورٹنگ کی وجہ سے پاکستان میں اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور قبائلی علاقے میں واقع ان کے گھر کو مبینہ طور پر طالبان نے تباہ کر دیا تھا۔

صورتحال کی نزاکت کی وجہ سے پشتو سروس نے ان کو فوری طور پر پاکستان سے نکالنے کے اقدامات کیے اور انہیں محققین اور سکالرز کے ایکسچینج پروگرام کے تحت امریکا کے جے_ون ویزا پر واشنگٹن بلا لیا۔ تاہم بنیری جب نو اگست کو واشنگٹن پہنچے تو انہیں امیگریشن حکام نے پوچھ گچھ کے بعد حراست میں لے لیا۔

واضح رہے کہ وائس آف امریکہ حکومت کے تعاون سے اپنی نشریات چلاتا ہے اور ادارے کے بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رحمٰن بنیری کی گرفتاری کی کوئی آزادانہ خبر چلانے پر ادارے کے ارباب اختیار نے پابندی لگا دی تھی۔

بنیری کی عمر تینتیس برس ہے اور وہ پاکستانی پشتو ٹی وی چینل خیبر ٹی وی کے کراچی میں نمائندے بھی تھے اور امریکہ آنے سے قبل کراچی میں رہائش پذیر تھے۔

بی بی سی نے متعدد بار وی او اے پشتو اور ادارے کے ترجمان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ تاہم رحمٰن بنیری کا مقدمہ مفت میں لڑنے والی لیگل فرم ہوگن اینڈ ہارسٹن کے وکیل پال ورچو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بنیری کے امیگریشن حکام کے ساتھ ابتدائی انٹرویو میں اہلکاروں کو لگا کہ بنیری پاکستان سے جان کے خوف کی وجہ سے امریکا آئے ہیں اس لیے وہ جے_ون کیٹیگری ویزہ پر سفر کرنے کے اہل نہیں۔

پال ورچو نے بتایا کہ ابہام کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بونیری کو بہت محدود انگریزی زبان آتی ہے اس لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی بات مکمل طور پر سمجھا نہ پائے ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ جب امریکی حکام کو لگا کہ بونیری کی امریکہ آمد کی وجہ خوف ہے تو قانون کے طور پر انہیں حراست میں لے لیا گیا تاکہ سیاسی پناہ کے محکمے کا کوئی افسر ان کا انٹرویو کرکے اس بات کا تعین کرے کہ آیا بنیری کو پاکستان جانے پر جان کا خطرہ ہے یا نہیں۔

منگل کو ایک افسر نے ان سے پوچھ گچھ کے بات فیصلہ کیا کہ پاکستان جانے پر ان کی جان کو خطرہ ہوگا اس لیے وہ عارضی طور پر ملک میں رہ سکتے ہیں لیکن ان کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ اس فیصلے کے بعد بنیری کو رہا کیا گیا ہے۔

پال ورچو سے جب پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیری سیاسی پناہ کی درخواست دیں گے اس پر انہوں نے کہا کہ فی الحال وہ یہ نہیں جانتے اور اپنے مؤکل سے بات کرکے پھر اس کا جواب دیں گے۔

دریں اثنا وی او اے کے نگراں ادارے براڈکاسٹنگ بورڈ آف گورنرز نے رحمٰن بنیری کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ بنیری ایک غیرمعمولی ہمت اور حوصلے کے حامل شخص ہیں۔