طالبان کا نیا امیر، جوشیلا و جذباتی کمانڈر

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
بظاہر دو ناموں سے مشہور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے نئے امیر حکیم اللہ محسود عام طورپر جوشیلے جنگی کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی عمر تیس سال کے لگ بھک بتائی جاتی ہے۔
حکیم اللہ محسود کے علاوہ وہ ذوالفقار محسود کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں تاہم قبائلی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان کا اصل نام جمشید ہے۔ حکیم اللہ محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کے گاؤں کوٹکی سے بتایا جاتا ہے۔ وہ محسود قبیلے کے ذیلی شاخ آشینگی سے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ حکیم اللہ محسود نے کوئی باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ البتہ انہوں نے صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو کے ایک گاؤں شاہو میں ایک مدرسے سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی جہاں وہ بیت اللہ محسود کہ ہمراہ پڑھے تھے تاہم دینی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے ہی دونوں طالبان کمانڈروں نے مدرسہ چھوڑ دیا تھا۔
سن دوہزار چار میں جب بیت اللہ محسود منظر عام آئے تو حکیم اللہ محسود ذوالفقار محسود کے نام سے ان کے ترجمان کی حثیت سے کام کرتے تھے۔ وہ تحریک طالبان پاکستان میں جنگی کمانڈر کےطور پر زیادہ جانے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے خلاف جب کوئی بڑا واقعہ ہوا ہے تو اس میں طالبان کی قیادت حکیم اللہ ہی کرتے رہے ہیں۔ وہ طالبان کے ایک اور اہم کمانڈر قاری حسین کے کزن ہیں اور ان کے گروپ سے بھی بتائے جاتے ہیں۔
تحریک کے امیر مقرر ہونے سے قبل وہ تین قبائلی ایجنسیوں خیبر، اورکزئی اور کرم ایجنسی کے کمانڈر تھے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ خیبر ایجنسی میں نیٹو افواج کو سامان لے جانے والی گاڑیوں پر حملے کرتے رہے ہیں جب کہ کرم ایجنسی میں شعیہ سنی فسادات میں بھی ملوث رہے ہیں۔
انہوں نے دو شادیاں کی ہیں۔ دوسری شادی انہوں نے چند ماہ قبل اورکزئی ایجنسی کے ماموں زئی قبیلے میں کی ہے۔ بیت اللہ محسود کے مقابلے میں حکیم اللہ ایک جوشیلے اور جذباتی شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ذرائع ابلاغ کو تصویروں اور فلموں کے ساتھ انٹرویو دینے کے شوقین بتائے جاتے ہیں جب کہ بیت اللہ میڈیا میں اپنا چہرہ دکھانے سے گریز کرتے تھے۔ ان کے پشاور اور قبائلی علاقوں کے صحافیوں کے ساتھ اچھے مراسم بھی ہیں۔
گزشتہ سال دسمبر میں حکیم اللہ محسود نے پشاور کے صحافیوں کو ایک پریس کانفرنس کےلیے اورکزئی ایجنسی بلایا تھا جس میں راقم بھی شامل تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران تقریباً ایک گھنٹہ تک صحافی مسلسل ان سے مختلف سوالات کرتے رہے۔ پریس کانفرنس جب ختم ہوئی تو حکیم اللہ نے چائے کے دوران مجھے علیحدہ بلاکر ایک طرف لے گئے اور کہا کہ ’یار آپ لوگوں نے تو مجھ سے بڑے سوالات کیے۔ میں نے کوئی غلط بات تو نہیں کی ہے کیونکہ امیر صاحب (بیت اللہ) تو بی بی سی بہت غور سے سنتے ہیں پروگرام ختم ہونے سے پہلے ریڈیو کان سے ہٹاتے ہی نہیں، ایسا نہ ہوں کہ میں نے کوئی غلط بات کی ہے اور وہ مجھ سزا نہ دیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکیم اللہ صحافیوں کی بڑی تعداد میں اورکزئی آنے پر بڑے خوش تھے۔ پریس کانفرنس کے بعد حکیم اللہ نے اپنی خوشی کا اظہار بھی بڑے انوکھے انداز میں کیا۔
صحافی اور طالبان حکیم اللہ کے گرد جمع تھے اور ان کے ساتھ تصویریں بنا رہے تھے کہ اس دوران انہوں نے اچانک اپنی بندوق (کلاشنکوف) سے ایک ہوائی فائر کیا جس سے سب صحافی پریشان ہوگئے۔ گولی کچھ اس انداز سے چلائی گئی کہ وہ اپنی جگہ سے ہلے اور نہ ہی بندوق کا بولٹ کھینچا۔ فائر کے بعد ہم ایک دوسرے کو خوف سے دیکھ رہے تھے جبکہ حکیم اللہ لمبے لمبے قہقہے لگا رہا تھا۔
جب ہم واپس جانے لگے تو حکیم اللہ نے تمام صحافیوں کو اکٹھا کیا اور فرداً فرداً سب سے ہاتھ ملانے کے بعد دو گاڑیاں ان کو بطور تحفے میں پیش کیں۔ ان میں ایک گاڑی نیٹو افواج کے قافلے کے بعد قبضے میں لی گئی بکتر بند گاڑی اور ایک اقوام متحدہ کی لینڈ کروز تھی۔ تاہم صحافیوں کے ٹیم لیڈر سیلاب محسود نے دونوں گاڑیاں انہیں شکریہ کے ساتھ واپس کر دیں۔
ان کے جذباتی اور جوشیلے پن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب ہم واپس جانے لگے تو حکیم اللہ نے کہا کہ میں آپ سب کے سامنے راکٹ چلانے کا ایک مظاہرہ کرتا ہوں اور اپ لوگ اس کی تصویریں اور فلمیں بنائیں اور پھر اس نے پہاڑ کو نشانہ بناکر راکٹ داغا۔
مبصرین کا خیال ہے کہ نوجوان ہونے کے ناطے حکیم اللہ محسود کےلیے طالبان کی تمام تنظیموں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔






















